English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آئی پی پیز کی لوٹ مار کا سلسلہ اور نہیں چل سکتا ،جاوید قصوری

القمر

لاہور (وقائع نگارخصوصی) امیر جماعت اسلامی محمد جاوید قصوری نے کہا کہ آئی پی پیز کی لوٹ مار ختم کرنا ہوگی۔حکومت مذاکرات کو طول دینے کی بجائے دو ٹوک انداز میں فیصلہ کرے۔ظالمانہ معاہدے کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ پاکستان کے عوام نے اپنے خون پسینے کی کمائی ان کی جھولیوں میں ڈالی ہے اب یہ سلسلہ اور نہیں چل سکتا۔حکومت کے پاس وقت بہت کم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے پی ڈی ایم ٹو کی حکومت کے پاس بھی کسی قسم کا کوئی معاشی ایجنڈا نہیں ہے،عوام کو ریلیف کے نام پر لالی پاپ دیا جا رہا ہے، کچن کینبٹ کے فیصلے اشرافیہ کے مفادات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ 25کروڑ عوام کی کسی کو کوئی فکر نہیں۔ ہر ادارے میں اور شعبہ میں کرپشن کی انتہا ہو چکی ہے،جب تک حکومت اداروں کے اندر سے کالی بھیڑوں کو نہیں نکالے گی اور چور راستوں کو بند نہیں کرے گی اس وقت تک اداروں کو درپیش مسائل، خسارے اور کرپشن کا قلع قمع ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مجموعی قرض 64ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے جبکہ مقامی قرضوں کا بوجھ 24 فیصد اضافے کے بعد39ہزار 792 ارب روپے ہو چکا ہے صرف ایک سال کے دوران حکومت نے 14ہزار 394 ارب روپے کا قرض حاصل کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرض کون سے عوام کے فلاحی منصوبوں پر خرچ کیا جا رہا ہے کسی کو کچھ پتا نہیں۔انہوں نے کہاکہ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ملکی معیشت کا ستیاناس ہو چکا ہے۔ ملک چوروں، لیٹروں اور کرپٹ افراد کی جنت بن چکا ہے۔مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی جو بھی بر سرا قتدار آیا اس نے مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ بھی کاروباری طبقے کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی بحرانوں سے نجات حاصل کرنے کیلیے سیاسی اختلافات کو بھلا کرقومی مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔ ملک و قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے حکمرانوں کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ رواں سال ترقیاتی بجٹ کا صرف51فیصد استعمال کیا جا سکا ہے۔ موجودہ حکمرانوں کے پاس قابلیت، اہلیت،صلاحیت کے ساتھ ساتھ ترجیحات کی کمی اور وڑن کا فقدان ہے۔جاگیر داروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں نے ملک کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے