دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل نے شام کے جنوب میں قنیطرہ اور دمشق کے درمیان راستے پر ڈرون طیارے کے ذریعے بم باری کردی۔ خبررساں اداروں کے مطابق حملے میں خان ارنبیہ کے علاقے کے مشرق میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا،جس میں سوار 2افراد ہلاک ہو گئے۔یہ کارروائی ملک کے وسطی صوبے حمص میں ملٹری سائنس ریسرچ سینٹر پر فضائی حملوں کے چند روز بعد کی گئی ہے۔ اتوار کے روز ہونے والے حملوں میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔شامی مبصر برائے شام کے مطابق حملوں میں 22 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے ۔ مرنے والوں میں زیادہ تر شامی اور ایرانی فوجی تھے۔7اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں حماس کے حملوں کے بعد سے شامی سرزمین پر اسرائیلی حملوں میں اضافہ ہو گیاہے۔دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار اور پیر درمیانی شب وسطی شام میں حماکے شہر مصیاف میں اسرائیلی فوج کے کمانڈوز ہیلی کاپٹر کی مدد سے ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک کمپاؤنڈ کے پاس اترے اور انہوں نے آپریشن کے دوران حساس معلومات پر مشتمل فائلیں اور دستاویزات قبضے میں لے لیں۔ اس کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کے اس ریسرچ سینٹر کو تباہ کردیا اور وہاں سے 4ایرانیوں کو زندہ پکڑنے کے بعد اسرائیل منتقل کردیا گیا ہے۔ عبرانی ٹی وی چینل 14 کے مطابق حما کے نواحی علاقے مصیاف میں ایران کے ہائی ٹیک فوجی موجود تھے۔ ان کی گرفتاری اور وہاں سے ملنے والی معلومات انتہائی اہمیت کی حامل ہوسکتی ہیں۔ ادھر شام کے عسکری تجزیہ کار اسد عوض الزوعبی نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیل نے شام میں ایک چھاپے کے دوران 3ایرانیوں کو گرفتار کیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے زمینی آپریشن کیا، جسیدو ہیلی کاپٹروں نے فضائی کور فراہم کیا، جبکہ تیسرے ہیلی کاپٹر نے کمانڈوز اتارے۔ اس آپریشن میں شامی اور ایرانی ہلاک اور 4 ایرانیوں کو گرفتار کیا گیا۔
