English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نمبر پورے ہیں، آج آئینی ترمیم پیش کریں گے، خواجہ آصف

القمر

اسلام آباد( نمائندہ جسارت/مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ کل ہفتہ کوقومی اسمبلی میں آئینی ترمیم پیش کی جائے گی‘ہمارے پاس نمبر پورے ہیں‘پارلیمنٹ کی راہداری میں غیر رسمی گفتگوکرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کل قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جا رہا ہے جس پر صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا کل کے اجلاس میں آئینی ترامیم لائی جا رہی ہیں؟خواجہ آصف نے کہا کہ جی کل اجلاس میں آئینی ترامیم پیش کریں گے، صحافی کی جانب سے دوسرا سوال کیا گیا کہ کیا آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے ہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ جی ہمارے پاس آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے ہوچکے ہیں۔دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کل آئینی ترمیم پیش کیے جانے کی تردید کردی۔ صحافی کی جانب سے آئینی ترمیم پیش کیے جانے کے سوال پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ فی الحال جو اپوزیشن کے ایم این ایز کا مسئلہ پڑا ہوا ہے اس پربات چیت ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو گرفتاریاں ہوئی ہیں اس پر وزیر داخلہ کو بھی بلایا ہے، اس مسئلے پربھی وہ کہہ رہے ہیں کہ پروڈکشن آرڈر رہیں گے، اجلاس رہے گا توپروڈکشن آرڈر رہے گا۔صحافی کی جانب سے اعظم نذیر تارڑ سے پوچھا گیا کہ کیا کل کوئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟جس پر اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ نہیں، مجھ سے زیادہ تو آپ کوپتا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے تصدیق کی ہے کہ عدلیہ سے متعلق آئینی ترمیم کل پیش کی جائے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 179 کے مطابق سپریم کورٹ کا جج 65 سال کی عمر تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا، ماسوائے اس کے کہ وہ جلد استعفیٰ دے یا آئین کے مطابق عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ آئین کے آرٹیکل 195 کے مطابق ہائیکورٹ کا جج 62 سال کی عمر تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا، الا یہ کہ وہ جلد استعفادے یا آئین کے مطابق عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ حکومت سپریم کورٹ کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا کر 68 کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ہائیکورٹ کے ججز کے معاملے میں ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال کی جائے گی اور ایسا آئینی ترمیم سے ہی ممکن ہو گا۔ اس کے علاوہ ججز تقرری کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کا امکان ہے، جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو ایک بنانے کی تجویزآئینی ترمیم کا حصہ ہوگی تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ پر حملہ کی کسی نے حمایت نہیں کی‘ جلسے کے بعد وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور تقریبا ساری رات کوہسار میں حساس ادارے والوں کے پاس بیٹھے رہے ان سے پوچھیں وہ وہاں کیا کرنے گئے تھے،علی امین گنڈا پور دو نمبر آدمی ہے اس پر اعتماد نہ کریں، سیاسی تلخی کو کم کرنا ہے تو اس کا طریقہ کار ہے۔ وزیردفاع نے کہا کہ بلاول بھٹو نے پارلیمنٹ کے تقدس سے متعلق تجویز پیش کی تھی،اسپیکر نے اس تجویز پر عمل کرتے ہوئے کمیٹی تشکیل دے دی،کمیٹی کی کارروائی شروع ہوئی تو لگ رہا تھا پی ٹی آئی کی شکایات کے لیے بنائی گئی ہے،کسی صورت پارلیمنٹ میں حملہ کی کسی نے حمایت نہیں کی،کمیٹی میں بھی یہ سلسلہ شروع ہو گیا کہ ہمیں یہ ہوا وہ ہوا،جس سپرٹ پر کمیٹی بنائی گئی اس کی کارروائی اس کی نفی کرتی ہے میں اس کمیٹی کا حصہ نہیں بننا چاہتا ان کی شکایات کے لیے الگ کمیٹی بنا دیں میں کمیٹی سے الگ ہوچکا ہوں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے