حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر)عوامی اتحاد جامشورو کے رہنمائوں پپن خان کھوسو، رئیس عثمان چانڈیو ،کامریڈ محمد سلمان بھلائی اور رئیس محمد سچل چانڈیو نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر وائس چانسلر لمس نے گوٹھ مصری کھوسہ اور یوسف کھوسہ سمیت دیگر قدیم گوٹھوں کی گلی کا راستہ نہیں دیا تو پھر سیاسی و سماجی تنظیموں اور مختلف برادریوں کی جانب سے وائس چانسلر کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی جو کہ وائس چانسلر کی برطرفی تک جاری رہے گی۔ رہنمائوں نے کہا کہ وائس چانسلر اور انتظامیہ نے مذکورہ گوٹھوں سمیت کئی گوٹھوں کیلئے آنے جانے کا راستہ بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے ہمارے بچے اسکول بھی نہیں جاسکتے ہیں جبکہ چند روز قبل ڈپٹی کمشنر اس حوالے سے ایک میٹنگ بھی رکھی تھی جس میں گوٹھ کے رہنمائوں سمیت ضلع انتظامیہ کے افسران شریک تھے لیکن وائس چانسلر کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ گوٹھ کیلئے آنے جانے کا راستہ کھولنے کیلئے تیار ہیں لیکن وائس چانسلر اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ گوٹھ کے مکین پیپلز پارٹی کی مخالفت میں آ جائیں کیونکہ تمام دیہاتیوں کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلی سندھ سمیت ارباب اختیار سے اپیل کی کہ وائس چانسل لمس اورسیکورٹی انچارج کو فوری برطرف کر کے قدیم گوٹھوں کا راستہ بحال کیا جائے۔ انہوں نے علاقہ کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران سے بھی اپیل کی کہ وہ دیہاتیوں کا مسئلہ حل کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
