باجوڑ: تحصیل خار، ضلع باجوڑ میں سڑک کنارے نصب بم سے گاڑی ٹکرانے پر تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) کے مطابق، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) سمیت دیگر اہلکار دھماکے میں محفوظ رہے۔
ڈی ایس پی نے مزید بتایا کہ بھائی چینہ کے علاقے میں مشتبہ افراد کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ دو دن قبل جمعرات کی رات ایک پولیس اسٹیشن میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور کئی دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ یہ واقعہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں پیش آیا تھا۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) صوابی ہارون رشید نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ دھماکہ پولیس اسٹیشن کی پہلی منزل کے ایک گودام میں ہوا، جہاں دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا دھماکہ خیز مواد بڑی مقدار میں محفوظ کیا گیا تھا۔
ملک میں طالبان کے افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں، پرتشدد حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند مہینوں میں ان دو سب سے زیادہ غیر محفوظ صوبوں میں مہلک حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔
اسلام آباد میں قائم اس تھنک ٹینک کے زیر انتظام سیکیورٹی واقعات کا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس ایک خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ جولائی میں حملوں کی تعداد 38 سے بڑھ کر اگست میں 59 ہو گئی۔
ان واقعات میں خیبر پختونخوا میں 29، بلوچستان میں 28 اور پنجاب میں 2 حملے شامل ہیں۔ اسی دوران، اگست میں خیبر پختونخوا میں ہونے والے 29 دہشت گرد حملوں میں 25 افراد جاں بحق ہوئے۔
ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وفاقی کابینہ نے اس سال جون میں آپریشن عزمِ استحکام کی منظوری دی تھی۔ یہ آپریشن نیشنل ایکشن پلان کے تحت سنٹرل ایپکس کمیٹی کی سفارشات کے بعد ملک گیر انسداد دہشت گردی مہم کا ایک نیا قدم ہے جس کا مقصد دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

