English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

لاپتا 4 بھائیوں کی بازیابی کا کیس:اسلام آباد ہائیکورٹ پولیس افسران پر برہم

القمر

اسلام آباد ( آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے تھانہ کھنہ کی حدود سے لاپتہ چار بھائیوں کی بازیابی کے کیس میں پولیس افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو مغویوں کی بازیابی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور وزارت دفاع ، داخلہ ، ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں سے بھی رپورٹ طلب کرلی۔چاروں بھائی جنوی سے لاپتا ہیں اور عدالتی حکم کے باوجود تاحال چاروں لاپتہ بھائی بازیاب نہ ہوسکے۔دوران سماعت عدالت نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو مغویوں کی بازیابی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور وزارت دفاع ، داخلہ ، ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں سے بھی رپورٹ طلب کرلی۔چیف جسٹس عامرفاروق نے پنڈی پولیس کے ایس ایس پی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا پنجاب میں بھی تفتیشی افسر ایسے ہی ہیں؟ اسلام آباد میں تو کوئی زمہ داری ہی نہیں لیتا، آج یہاں ہیں کل آئی جی صاحب تبدیل ہوں گے تو یہ بھی کہیں چلے جائیں گے اور بات ختم، پنجاب میں تو ٹرانسفر ہو کر بھی پنجاب میں ہی گھومتے ہیں۔ ایسے نہیں ہوتا، یہاں تو جائے وقوعہ کے فنگر پرنٹس بھی نہیں لیے جاتے اور نہ جانے کیا کیا خامیاں ہیں، سی ڈی آر کا پتہ نہیں ہوتا نہ کوئی ریکارڈ پورا ہوتا ہے، ایسے تو اگلے دس سال کچھ نہیں ہونا،انھوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روزدیے ہیں۔عدالت نے مغویوں کی بازیابی کیلئے تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اداروں کو خط لکھنے کی ہدایت بھی کی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے کہا کہ تمام اداروں اور صوبوں کو خط لکھیں اور اگلے ہفتے پیش رفت رپورٹ سے آگاہ کریں۔اس دوران ایس ایس پی انویسٹی گیشن اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس عامر فاروق نے افسران پر برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے پولیس افسران کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس کا تو کوئی حال ہی نہیں ہے، کوئی ذمہ داری نہیں لیتا۔چیف جسٹس نے پنڈی پولیس کے ایس ایس پی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا پنجاب میں بھی تفتیشی افسر ایسے ہی ہیں؟ اسلام آباد میں تو کوئی زمہ داری ہی نہیں لیتا، ایس ایس پی اسلام آباد نے کہا کہ تفتیشی افسران کو تربیتی نشستیں کروا رہے ہیں، آگے بہتری ہوگی۔ جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایسے نہیں ہوتا، یہاں تو جائے وقوعہ کے فنگرپرنٹس بھی نہیں لیے جاتے اور نہ جانے کیا کیا خامیاں ہیں، سی ڈی آر کا پتہ نہیں ہوتا نہ کوئی ریکارڈ پورا ہوتا ہے، ایسے تو اگلے دس سال کچھ نہیں ہونا، چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ تفتیشی افسر کو تبدیل کریں، چیزیں سب فنگر ٹپس پر ہونی چاہیے۔چیف جسٹس نے پنڈی پولیس کے افسر سے استفسار کیا کہ آپ نے اس معاملے کو دیکھا ہے کیا پیش رفت ہے؟ایس ایس پی نے بتایا کہ میں نے فیملی کو سنا ہے اور تفتیشی افسر کو بھی سنا ہے، کوئی ثبوت نہیں ہے کہ پنجاب پولیس نے اٹھایا، ہم ہر طرح کا تعاون کررہے ہیں، اسلام آباد پولیس کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ایس ایس پی اسلام آباد نے کہا کہ جو ویڈیو دی گئی ایف آئی اے کے مطابق اس سے شناخت نہیں ہورہی، تحقیقات چل رہی ہے امید ہے کہ پیش رفت ہو گی۔چیف جسٹس نے کہا کہ تفتیش اسلام آباد پولیس ہی کرے گی کیونکہ پرچہ یہاں ہے۔عدالت نے پولیس کو مغویوں کی بازیابی کے لیے تمام اداروں اور صوبوں کو خط لکھنے کی ہدایت کی۔دوران سماعت ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ ، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، وکیل درخواست گزار مفید خان ایڈووکیٹ اور لاپتہ شہریوں کی والدہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے ہدایات کے ساتھ کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے