دادو (نمائندہ جسارت) پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو اور پیپلز پارٹی سندھ کے ترجمان عاجز دہامراہ جمالی ہاؤس دادو پہنچ کر کارساز جلسے کے انتظامات کے حوالے سے پارٹی کارکنوں و عہدیداروں سے میٹنگ کی۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی ضلع دادو کے صدر رفیق جمالی و دیگر نے حیدرآباد میں منعقدہ کارساز جلسے میں بھرپور شرکت کی اعلان کیا ہے۔ نثار کھوڑو نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ جلسہ عام انتخابات کے بعد پارٹی کا پہلا بڑا اجتماع ہوگا، جس میں 18 اکتوبر 2007ء کے کارساز سانحے میں شہید ہونے والے 180 کارکنوں کی یاد کو تازہ کیا جائے گا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان شہداء کے ڈی این اے ٹیسٹ نہیں کیے جا سکے، جس پر ہمیں دکھ ہے، لیکن ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مزید گفتگو میں نثار کھوڑو نے بتایا کہ تین اضلاع میں میٹنگز ہو رہی ہیں تاکہ کارساز جلسے کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جمہوری اداروں کا احترام کرنا چاہیے، جمہوریت پر حملہ جمہوری اداروں کی توہین ہے، اس لیے حکومت نے دفعہ 144 نافذ کی تھی تاکہ امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے۔ نثار کھوڑو نے یہ بھی کہا کہ ڈی چوک پر آنے والے جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے بجائے جمہوری عمل کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے عدلیہ میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئینی مسائل کو آئینی عدالت اور عوامی مسائل کو عوامی عدالت ہی دیکھے گی۔ کارساز جلسے میں بھرپور شرکت پر زور دیتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ ارسا ایکٹ پر پیپلز پارٹی کا مؤقف سندھ اسمبلی کا ہے اور یکطرفہ فیصلوں کو سندھ اسمبلی نے مسترد کر دیا ہے۔ اس سے قبل نثار کھوڑو، ایم این اے رفیق جمالی کی رہائش گاہ جمالی ہاؤس پہنچے، جہاں انہوں نے 18 اکتوبر کے کارساز جلسے میں شرکت کے حوالے سے پارٹی کارکنان سے ملاقاتیں کیں اور جلسے کی تیاریوں پر مشاورت کی۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت دی کہ وہ جلسے میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے جبکہ اس موقع پر ایم پی اے سجیلا لغاری، ایم پی اے فیاض بٹ، سابقہ ایم پی اے کلثوم چانڈیو، ضلع کونسل دادو چیئرمین سید محمد شاہ، غلام دستگیر گورڑ، قنبر خان لغاری، ممتاز جوکھیو، بابن پنہور، خالد میرانی و دیگر عہدیداران موجود تھے۔
