
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) سمندری طوفان ملٹن امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحل پر خلیج میں واقع ٹیمپا بے سے ٹکرا گیا ۔ خبررساں اداروں کے مطابق ریاست فلوریڈا کے ساحلی علاقے سیستاکے سے جس وقت طوفان ٹکرایا تو وہاں 200 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔ سیستا فلوریڈا کے علاقے ٹیمپا کے جنوب میں واقع سفید ریت کا مشہور ساحل ہے۔ اس ساحلی پٹی پر لگ بھگ ساڑھے 5ہزار افراد آباد ہیں جن کو انتہائی خوش حال آبادی بھی قرار دیا جاتا ہے۔طوفان کے دوران انتہائی تیز ہواؤں کے باعث بجلی کا نظام شدید متاثر ہوا اور30لاکھ افراد بجلی سے محروم ہوگئے، جب کہ مختلف حادثات میں 4افراد ہلاک ہوگئے۔ میامی میں نیشنل ویدر سروس نے 50 مقامات پر بگولے آنے کی تنبیہ جاری کی۔ نیشنل ہیریکین سینٹر کا کہنا ہے کہ فلوریڈا کے علاقے ٹیمپا بے سے گزشتہ ایک صدی میں براہِ راست کوئی بھی طوفان نہیں ٹکرایا تھا، لیکن اب طوفان ملٹن اس علاقے میں تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ طوفان سے ٹیمپا بے کے گنجان آباد علاقے سینٹ بیٹرزبرگ، سراسوتا اور میئرز سمیت دیگر آبادیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ سینٹ پیٹرزبرگ سمیت ٹیمپا بے کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتِ حال ہے اور 400 ملی میٹر بارش ہو چکی ہے۔ فلوریڈا میں طوفانی بارش کی وجہ سے دریاؤں اور جھیلوں میں طغیانی کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صدی کا طاقتور طوفان قرار دیا جانے والا ملٹن کمزورپڑکر دوسرے درجے میں داخل ہوگیا ہے۔ دوسری جانب ٹمپا بے اور سینٹ پیٹرز برگ کے 60 فیصد پیٹرول پمپوں پر پیٹرول بھی ختم ہو گیا ،جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یاد رہے کہ ملٹن طوفان سے محض 2ہفتے قبل فلوریڈا میں ہیلین طوفان ٹکرایا تھا جس کی وجہ سے 230 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حکام نے فلوریڈا کے 11 علاقوں سے انخلا کے احکامات جاری کیے تھے۔ ان 11 کاؤنٹیوں کی آبادی لگ بھگ 60 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔
