English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مقبوضہ کشمیر کے بھارتی وفاقی اکائی بننے کے بعد عمر عبداللہ پہلے وزیراعلیٰ بن گئے

القمر

سرینگر (اے پی پی+ مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ جموں کشمیر کے 2019 میں آرٹیکل 370 کے تحت حاصل خصوصی حیثیت کے خاتمے اور وفاقی یونٹ بننے کے بعد عمر عبداللہ نے پہلے وزیراعلیٰ کا حلف اْٹھا لیا جبکہکانگریس کے سینئر رہنما غلام احمد میر نے اعلان کیا ہے کہ کانگریس کے منتخب ارکان اسمبلی ریاستی درجہ ملنے تک حلف نہیں اٹھائیں گے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں فاروق عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس نے سب سے زیادہ 43نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ اتحادی جماعت کانگریس کو 8 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔ اس طرح اس انتخابی اتحاد کو مجموعی طور پر 90 میں سے 51 سیٹیں ملنے پر زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی پارٹی نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے اپنے بیٹے عمر عبداللہ کو بطور وزیراعلیٰ نامزد کیا تھا۔ علاوہ ازیں بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموںوکشمیر میں کانگریس کے سینئر رہنما غلام احمد میر نے ریاستی درجہ کی بحالی کے بارے میں پارٹی کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کانگریس کے منتخب ارکان اسمبلی ریاستی درجہ ملنے تک حلف نہیں اٹھائیں گے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق غلام احمد میرنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم نے الیکشن اقتدار کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کی بحالی کے لیے لڑا ہے اور ہماری اولین ترجیح ریاستی درجے کی بحالی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہمارے منتخب ارکان فوری طورپرحلف نہیں اٹھائیں گے لیکن ہم اجتماعی اہداف کے حصول کیلئے اپنے اتحادی نیشنل کانفرنس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یاد رہے کہ عمرعبداللہ اس سے قبل بھی 2009 سے 2015 تک مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز کٹھ پتلی انتظامیہ کے وزیر اعلیٰ رہے تھے۔ فاروق عبداللہ کی مودی سرکار کے ساتھ خلیج اْس وقت بڑھ گئی تھی جب 2019 میں ایک سیاہ قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے اسے بھارت کی وفاقی اکائی کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ اس سیاہ اقدام پر مودی کے حمایتی کشمیری رہنماؤں فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے بھی احتجاج کیا تھا جس پر انہیں سال بھر نظر بند رکھا گیا تھا۔ رواں ماہ ہونے والے الیکشن مقبوضہ کشمیر کی بطور بھارتی وفاقی اکائی کی حیثیت سے ہوئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے