لندن (نمائندہ خصوصی) سول سوسائٹی کے ارکان نے لندن میں امریکی سفارتخانے کے سامنے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلیے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ عافیہ موومنٹ میڈیا سیل کو موصولہ تفصیلات کے مطابق سول سوسائٹی کے کارکنان بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے لندن میں امریکی سفارت خانے کے سامنے جمع ہوئے اور کافی دیر تک ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جلد رہائی کیلیے نعرے لگاتے رہے۔ نائن الیون کے متاثرہ، بگرام اورگوانتاناموبے کے سابق قیدی معظم بیگ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان رہنما جو گوانتاناموبے کے قیدی تھے اب افغانستان حکومت میں وزیر بن چکے ہیں۔ امریکی حکومت گوانتاناموبے کے ان قیدیوں سے مذاکرات کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو قید رکھنے سے امریکا کو کچھ نہیں ملے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عافیہ کے مصائب کو ختم کیا جائے اور اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد ڈاکٹر لیلیٰ مہرالنساء نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ناانصافی کا شکار ہیں، انہیں اب رہا کیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر عافیہ پاکستانی شہری ہیں اور یہ سوچنا انتہائی اذیت کا باعث ہے کہ پاکستانی حکومت اور معاشرے نے ان کے ساتھ کیا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ڈاکٹر عافیہ پر مظالم کی داستان سامنے آتی ہے تو پاکستانی ہونے پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کا کیس انصاف کی سراسر پامالی ہے، صدر جوبائیڈن ہمدردی کی بنیاد پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا حکم دیں۔
