English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

صحافیوں کا اپنی ہی صفوں میں اتحاد نہ ہونا خطرہ بنتا ہے، مقررین

القمر
میرپورخاص: ٹی ڈی اے اور فافین کے اشتراک سے پریس کلب میں سیف میڈیا سیفٹی سیکورٹی کے حوالے سے میٹنگ کی جا رہی ہے

میرپورخاص (نمائندہ جسارت) سینئر صحافی اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے مرکزی رہنما ناصر زیدی نے صحافیوں کے تحفظ اور سیکورٹی کے لیے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ٹی ڈی ای اے اور پی ایف یو جے کے کردار بہت اہم ہے، انہوں نے آزادی صحافت کی راہ میں حائل قانونی و انتظامی قدغنوں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سب کو مل کر مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات انہوں نے پریس کلب میں ٹرسٹ فار ڈیمو کریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹبیلٹی (ٹی ڈی ای اے) کے تعاون سے ہونے والی نشست میں کہی۔ صدر پریس کلب نذیر احمد پنہور نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے صحافیوں کی سلامتی یا تحفظ کے لیے کوئی قابل ذکر اقدام نہیں ہوتا، صحافیوں کی اپنی صفوں میں اتحاد نہ ہونا بھی انہیں مختلف حلقوں کی جانب سے خطرات اور دھمکیوں کا باعث بنتا ہے۔ سینئر صحافی سلیم آزاد نے کہا کہ چھوٹے شہروں کے صحافیوں کو بڑے شہروں کی صحافتی یونینز میں نمائندگی نہیں ملتی، اسی لیے ایسے چھوٹے شہروں کے صحافیوں کی آواز بلند ہوتی ہے، نہ ہی سنی جاتی ہے، صحافت کے شعبے میں نئے آنے والے نوجوان، صحافت کے بنیادی تقاضوں اور اخلاقیات سے نابلد ہوتے ہیں، ان کے لیے تربیتی ورکشاپس ہونے چاہئیں۔ صحافی محمد خالد نے کہا کہ میڈیا اداروں میں نیوز ڈیسک والوں کو مقامی صحافیوں کے مسائل کا حقیقی ادراک نہیں ہوتا، بس وہ ان صحافیوں سے خبری تقاضے ہی کرتے رہتے ہیں، مقامی صحافیوں کو گستاخانہ واقعات والے حالات کی نیوز رپورٹنگ بہت مشکل ہوجاتی ہے۔ صحافی معین کمال نے کہا کہ مقامی صحافیوں کو نہ تو اپنے میڈیا اداروں کی طرف سے اور نہ ہی حکومت، انتظامیہ کی طرف سے کوئی تحفظ حاصل ہوتا ہے بلکہ صرف مقامی پریس کلب ہی ایسے فورم ہے جو صحافیوں کا ایسا تحفظ فراہم کرتے۔ صحافی محمد صدیق کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ عناصر اور سیاستدانوں کی مخالفت صحافیوں کی راہ میں بڑی رُکاوٹیں بنتی ہیں، مذہبی حساسیت سے جڑے واقعات کی نیوز رپورٹنگ مقامی صحافیوں کے لیے چیلنج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی صحافیوں کو حقائق پر مبنی نیوز رپورٹنگ سے پہلے 100 بار سوچنا پڑتا ہے کیونکہ جرائم پیشہ عناصر کا پولیس سے گٹھ جوڑ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں عامل صحافیوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج ہوتے ہیں، سیاستدانوں کی طرف سے بھی دھمکیوں اور خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ نمائندہ ٹی ڈی ای اے سید عبدالاحد نے شرکاء کو بتایا کہ سیف میڈیا پروگرام کو صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو بڑھانے اور اس کے ساتھ انہیں بااختیار بنانے کے میکنزم کی معاونت اور اجتماعی ایڈووکیسی کو تقویت دینے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، اس کے رسپانس فنڈ سے مقامی میڈیا ایسوسی ایشنز، پریس کلبز، جرنلسٹ یونینز کو سیمینار، ورکشاپس اور کانفرنسز جیسے ایونٹس منعقد کرانے کے لیے معاونت دی جائے گی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے