کندھکوٹ (نمائندہ جسارت) جمعہ کی شب پنجاب پولیس نے کشمور کے ذوالفقار شاہ محلے میں رات کی تاریکی میں چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے نجی ٹی وی چینل کے صحافی کے گھر پر چھاپا مارا، چھاپے کے دوران صحافی خان محمد شر اور اس کے اہل خانہ کو گرفتار کرنے کے بعد لاپتا کر دیا، صحافی کی آزادی کے لیے کشمور گڈو کی صحافی برادری، تمام مذہبی، سیاسی و سماجی تنظیمیں اور سول سوسائٹی دوسرے روز بھی سراپا احتجاج رہے۔ صحافی حاکم علی نصیرانی کی سربراہی میں صحافی برادری کی جانب سے دیرا موڑ انڈس ہائی وی کے مقام پر احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے دیا، دھرنے کے باعث بین الصوبائی ٹریفک معطل ہو گئی۔ اس موقع پر مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس رات کی تاریکی میں سندھ میں غیر قانونی طور پر داخل ہوتی ہے، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے اہل قلم کے گھر میں گھس کر اسے اور اس کے اہل خانہ کو ڈاکوئوں کی طرح لے جاتی ہے اور سندھ پولیس کو خبر تک نہیں ہوتی۔ ہم اپنے صحافی دوست کی بلاجواز گرفتاری کی مذمت اور پولیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ صحافی خان محمد اور ان کے اہل خانہ کو فوری رہا کیا جائے، ورنہ احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ دوسری جانب ایس ایس پی کشمور نے ایس ایچ او کشمور اقتدار حسین جتوئی کی معرفت 2 دن کی مہلت مانگ لی اور یقین کرایا کہ صحافی اور اس کے اہل خانہ کو فوری آزاد کرایا جائے گا۔
