English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

روس بین البراعظمی میزائل استعمال کر رہا ہے ، یوکرین کا الزام

یوکرین کے علاقے دینپوو پر روسی فوج کے حملے سے مکان شعلوں میں گھرا ہوا ہے

کیف (انٹرنیشنل ڈیسک) یوکرینی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے حالیہ بڑے میزائل حملے میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل استعمال کیا ۔ صدر وولودیمیر زیلینسکی نے بھی اپنے ایک وڈیو پیغام میں کہا کہ روس نے ایک نئے میزائل کا استعمال کیا ہے ،جس کی تمام خصوصیات اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ وہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تھا۔ ادھر روس کی جانب سے میزائلوں کے استعمال کی تصدیق نہیں کی گئی۔ غیر ملکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ روس نے یوکرین پر حملے میں بین البراعظمی میزائل استعمال کیا ہے تو یہ جنگی تاریخی میں کسی بین البراعظمی میزائل کا پہلا استعمال ہوگا۔ یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ حملے میں کنزہل ہائپرسانک میزائل اور 7 کے ایچ 101 کروز میزائل بھی داغے گئے جن میں سے 6 میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کردیا گیا۔ روس کی جانب سے مبینہ طور پر آر ایس 26 بین البراعظمی بیلسٹک میزائل استعمال کیا گیا ہے۔یہ میزائل 5 ہزار 800 کلومیٹر کے فاصلے تک ایٹمی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یوکرین نے بھی پہلی بار برطانیہ کے اسٹارم شیڈو میزائل کا استعمال کیا ہے ۔امریکی صدرجوبائیڈن یوکرین کو پہلے ہی امریکی میزائلوں سے بھی روس پر حملے کی اجازت دے چکے ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اس فیصلے کو واشنگٹن کا اشتعال انگیز قدم قرار دیا اورخبردار کیا کہ اس پیش رفت نے جوہری خطرے کی سطح کو بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کی سرزمین پر ناٹو کی موجودگی کا مطلب روس کے خلاف جنگ کا آغاز ہوگا۔ دوسری جانب سابق جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ناٹو میں یوکرین کی شمولیت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی تھیں۔ آیندہ ہفتے جاری ہونے والی کتاب میں انجیلا مرکل نے انکشاف کیا کہ ناٹو کی رکنیت کے لیے کسی بھی سابق امیدوار کو ایسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔اس وقت یوکرین کی آبادی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ناٹو میں شامل ہونے کی حمایت کرتا تھا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے