
پیوٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین کو جوہری ہتھیار دیے گئے تو وہ جنگ میں اپنی پوری طاقت جھونک دیں گے۔ روسی صدر نے کہا کہ یوکرین ڈرٹی بم بنانے کی کوشش کر سکتا ہے، اس لیے یوکرین کے ہر اقدام کی نگرانی کی جائے گی اور اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جارحیت کے ہر قدم کا جواب دینے کے لیے روس تیار ہے۔ اس سے قبل یوکرینی صدر زیلنسکی نے دعویٰ کیا تھا کہ روس نے توانائی کی تنصیبات کو کلسٹر بموں سے سے نشانہ بنایا ہے۔ ادھر روسی فوج نے کہا ہے کہ رات گئے یوکرین کے 47 ڈرون طیاروں کو مار گرایا۔ جمعہ کے روز جاری بیان میں روسی فوج نے بتایا کہ ڈرون طیاروں میں سے 29 کو یوکرین کے ساتھ سرحد پر واقع علاقے روستو کی فضاؤں میں نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران علاقے میں ایک صنعتی مقام پر زور دار آگ بھڑک اٹھی،جس کو بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کے 100 سے زیادہ اہل کاروں کو بھیجا گیا۔ فریقین کی جانب سے تقریبا روزانہ کی بنیاد پر اپنی سرزمین پر ڈرون طیارے مار گرانے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب ماسکو حکام نے مغربی ممالک سے اشیائے خورونوش پر عائد پابندیوں کی مدت میں توسیع کردی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق روس نے خوراک کے شعبے پر عائد پابندیوں میں 31 دسمبر 2026 تک توسیع کی ہیجو اس نے 2014 سے چند مغربی ممالک پر عائد کررکھی ہیں۔ روسی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور یورپی یونین کے رکن ممالک سمیت کچھ ممالک کی جانب سے عائد کردہ جوابی پابندیوں میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے،جب کہ نیوزی لینڈ کو پابندیوں والے ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔ مغربی ممالک کی پابندیوں کے جواب میں روس نے 2014 ء سے امریکا، یورپی یونین اور کچھ مغربی ممالک سے غذائی مصنوعات درآمد کرنا بند کردی تھیں۔ان پابندیوں کے تحت مغربی ممالک سے گوشت ، ڈیری مصنوعات، سبزیوں اور پھلوں کی درآمد روک دی گئی تھی۔
