پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز نے کہا ہے کہ اگر عمران خان نے این آر او مانگنا ہوتا تو 2 سال پہلے مانگتے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ کچھ بھی ہو، مذاکرات جاری رہیں گے، کوئی ایک فریق ہٹ دھرمی پر اترا تو سیاسی عدم استحکام میں مزید شدت آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں اتنی گرفتاریاں پہلے کبھی نہیں ہوئیں ،پاکستان کو سیاسی عدم استحکام نے جکڑ لیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ مسائل حل ہوں، ماضی میں ہوئے واقعات کی تفتیش ہونا ضروری ہے۔
شبلی فراز کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خلاف حکومت کے پاس کوئی ٹھوس شواہد نہیں، 190 ملین پاؤنڈ بانی پی ٹی آئی کے پاس نہیں گئے بلکہ یہ رقم حکومت کے پاس گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف تمام کیسز جعلی بنائے گئے ہیں، اُمید کرتے ہے کل القادر کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا،حکومت 9 مئی کے واقعات کے پیچھے چھپ کر حکمرانی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے 26ویں ترمیم کی مخالفت کی کیونکہ قانون کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے لیکن کچھ لوگوں کو نواز نے کے لیے ترمیم کی گئی۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ 9 مئی واقعات سمیت دیگر واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے، چیف الیکشن کمیشن نے ملکی تاریخ کے متنازع انتخابات کروائے، پاکستان میں کبھی بھی شفاف انتخابات نہیں ہوئے، یہی موجودہ مسائل کی جڑ ہے۔

