اسلام آباد: پاکستان میں بھی ارتھ آورمنایاگیا۔ یہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق شعور اجاگر کرنے اور زمین سے محبت کے اظہار کے لیے منایا جاتا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کا کہنا تھا کہ رواں سال ارتھ آور توانائی اور پانی کے تحفظ کی اپیل کے ساتھ منایا۔رات 8:30 سے 9:30 زمین کے نام وقف کیا گیا ہے۔
پاکستان میں پارلیمنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ اور ایوان صدر کی لائٹیں بند کر دی گئیں، لاہور میں واپڈا ہاؤس کی روشنیاں گل کر دی گئیں۔
پشاور میوزیم، کراچی میں مزار قائد کی لائٹیں بند کردی گئیں، کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کی لائٹیں بند کر دی گئیں، ارتھ آور پر لائٹس ایک گھنٹے کےلیے بند کی گئی ہیں۔جبکہ مینارپاکستان اور بادشاہی مسجد کی لائٹیں بند نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ 2007 میں ارتھ آور متعارف کروایا گیا تھا جس کے بعد اسے ہر سال مارچ کے آخر میں ایک مخصوص دن پر منایا جاتا ہے۔
ارتھ آور کو منانے کا مقصد کرہ ارض کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔
