اسلام آباد: پریس کلب کے باہر سے وکلا کی گرفتاریوں کے بعد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے جزوی ہڑتال کا اعلان کر دیا۔
آج کچہری میں متعدد وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جبکہ بعض نے معمول کے مطابق پیشیاں نمٹا دیں۔ بار ایسوسی ایشن کے مطابق پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و قانونی حق ہے، اس لیے وکلا کے خلاف کارروائی کسی طور قبول نہیں کی جا سکتی۔
گزشتہ رات پولیس نے اسلام آباد پریس کلب کے باہر سے اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے سیکریٹری سمیت 10 سے 15 وکلا کو حراست میں لیا تھا، تاہم صورتحال کشیدہ ہونے کے خدشے پر بعد ازاں تمام گرفتار وکلا کو رہا کر دیا گیا۔ اس واقعے نے وکلا برادری میں سخت تشویش پیدا کر دی ہے۔
بار ایسوسی ایشن نے آج جنرل باڈی اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں احتجاج کے دائرہ کار کو بڑھانے یا مکمل ہڑتال کے آپشن پر بھی غور کیا جائے گا۔ وکلا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کی کارروائیاں دوبارہ کی گئیں تو وہ عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
قانونی ماہرین کے مطابق وکلا برادری ملک کے عدالتی نظام کی ایک اہم ستون ہے اور ان کے ساتھ اس قسم کا سلوک اداروں کے درمیان تناؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اسی لیے وکلا تنظیمیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔
