اسلام آباد:وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بانی تحریکِ انصاف عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے پارلیمان کی کارروائی نہ چلنے دینے کی دھمکی دے دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات اڈیالہ جیل کے باہر کارکنان کے ہمراہ دھرنا دیے بیٹھے رہے تاکہ انہیں اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت مل سکے، تاہم رات بھر انتظار اور کوششوں کے باوجود یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔
ہفتہ کی صبح وزیراعلیٰ سہیل آفریدی قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے عدالت پہنچے، جہاں انہوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سے ملاقات کی درخواست کی، لیکن چیف جسٹس نے ان سے ملنے سے انکار کردیا، صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے ۔
وزیراعلیٰ آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ تمام آئینی و قانونی دروازے کھٹکھٹا چکے ہیں، لیکن اب بھی یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایسا کون سا راستہ باقی رہ گیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے لیڈر سے ملاقات کر سکیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے واضح اعلان کیا کہ اگر انہیں عمران خان سے ملنے نہیں دیا گیا تو وہ پارلیمنٹ کی کارروائی آگے نہیں بڑھنے دیں گے، منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے بھرپور احتجاج کیا جائے گا اور وہ اس سلسلے میں کارکنان کے ساتھ دوبارہ اسلام آباد کا رخ کریں گے۔
سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اگر عدالتیں انصاف فراہم نہ کرسکیں تو لوگ خود انصاف لینے پر مجبور ہوجائیں گے، عوام قانون ہاتھ میں لیں گے تو حالات خراب ہوں گے اور پھر کوئی بھی انہیں کنٹرول نہیں کر پائے گا۔
وزیراعلیٰ کے اس سخت اور غیر معمولی مؤقف کے بعد وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے، جبکہ نفری میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔
