خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے، پولیس کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں سال کے دوران شہر میں قتل و غارت، اغوا اور اسٹریٹ کرائم کے سنگین واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق پشاور میں سال بھر میں 517 افراد کو قتل کیا گیا، جب کہ اقدامِ قتل کے 785 واقعات بھی مختلف تھانوں میں درج ہوئے، جو شہر میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں ماہ کے ابتدائی تین ہفتوں میں ہی 9 شہری قتل ہوئے، جب کہ اسٹریٹ کرائمز کے دوران راہزنوں نے 10 افراد کو زخمی کیا۔ امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ شہر میں 8 بچوں سمیت مجموعی طور پر 37 افراد کو اغوا کیا گیا۔ ان واقعات میں اغواء برائے تاوان کے 9 کیسز شامل ہیں، جنہوں نے شہریوں میں غیر معمولی خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔
پشاور میں املاک سے متعلق جرائم بھی قابو سے باہر دکھائی دیتے ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق چوری اور ڈکیتی کے 370 مقدمات درج ہوئے، جب کہ کاری چوری کے 89 اور کار چھیننے کے 40 واقعات رپورٹ ہوئے۔
موٹر سائیکل جرائم کی صورتحال بھی خاصی خراب رہی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں موٹر سائیکل چوری کے 219، جب کہ موٹر سائیکل چھیننے کے 314 واقعات پیش آئے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق جرائم کی اس بڑھتی لہر پر قابو پانے کے لیے خصوصی حکمتِ عملی تشکیل دی جا رہی ہے، تاہم شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ زمینی سطح پر پولیسنگ کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے جرائم کے رجحان کو روکا جا سکے۔
