اسلام آباد کے دورے پر موجود مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے تجویز کردہ عالمی استحکام فورس (ISF) کا کردار سختی سے محدود رکھا جانا چاہیے تاکہ فورس کا مقصد صرف جنگ بندی کی نگرانی اور سرحدی سیکیورٹی تک محدود رہے، نہ کہ غزہ میں کوئی نیا سیاسی یا فوجی نظام نافذ کرنا۔
میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے مصری وزیرِ خارجہ نے کہا کہ غزہ کے لیے عالمی استحکام فورس کا اصل مقصد امن نافذ کرنا نہیں بلکہ موجودہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہے،فورس سے متعلق تفصیلات، مینڈیٹ اور دستوں کی فراہمی جیسے اہم امور پر عالمی شراکت داروں خصوصاً امریکاکے ساتھ مشاورت جاری ہے۔
بدر عبدالعاطی نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی کے عمل میں مزید نمایاں کردار ادا کرے، مصر جلد غزہ کی تعمیرِ نو سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے، جس میں پاکستان سے مالی معاونت کے ساتھ ساتھ نجی شعبے، تکنیکی تعاون اور طبی خدمات میں بھی شمولیت کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں اس وقت تقریباً 50 ہزار ایسے مریض موجود ہیں جنہیں فوری طبی مدد کی ضرورت ہے، اور عالمی تعاون کے بغیر اس بحران سے نمٹنا ناممکن ہے۔
مصری وزیرِ خارجہ کے مطابق پاکستان اور مصر اس مؤقف پر مکمل اتفاق رکھتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔ انہوں نے سوڈان، ایران اور خطے کے دیگر تنازعات کے حوالے سے بھی سیاسی عمل، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا۔
بدر عبدالعاطی نے پاکستان اور مصر کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور دفاعی تعاون کے فروغ پر بھی زور دیا، دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی حجم کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے نجی شعبے کو بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
