لاہور: 26ویں اور 27ویں ترمیم کے باعث ایک اور جج مستعفی۔ لاہور کے سول جج کے مطابق میں وہ آخری شخص ہوں گا جو آمریت کو سپورٹ کروں گا، اعلی عدلیہ ملک کے لیے کبھی باعث فخر نہیں بنی۔
27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ سے استعفے آنے کا سلسلہ جاری ہے، لاہور کی سول عدالت کے جج نے بھی استعفا دے دیا۔سول جج سید جہانزیب بخاری نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا، استعفا میں ا نہوں نے لکھا کہ 26 اور 27 ویں ترمیم کی وجہ سے عہدے سے استعفا دے رہا ہوں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ میں وہ آخری شخص ہوں گا جو آمریت کو سپورٹ کروں گا، اعلی عدلیہ ملک کے لیے کبھی باعث فخر نہیں بنی،ریاست کی زمہ داری ہے کہ وہ برابری کی بنیاد پر انصاف کرے۔
دریں اثنا سول جج سید جہانزیب بخاری کے استعفا پر لاہور ہائیکورٹ کا ردعمل آگیا، ترجمان لاہور ہائیکور ٹ کا کہنا ہے کہ سول جج سید جہانزیب بخاری نے مسلسل غیر حاضری پر محکمانہ و انضباطی کارروائی کے بعد استعفا دیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سول جج سید جہانزیب بخاری اپنی ڈیوٹی سے مسلسل دانستہ طور پر غیر حاضر رہے، جج کی طویل غیر حاضری اور ڈیوٹی جوائن نہ کرنے پر انضباطی کاروائی شروع کی گئی۔
ترجمان کے مطابق انتظامی کمیٹی کارروائی کے فیصلے کے بعد سول جج نے مبینہ استعفا سوشل میڈیا پر جاری کیا، ہائیکورٹ میں استعفا تاحال موصول نہیں ہوا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ملک کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ ، سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ سمیت لاہور ہائیکورٹ کے جج بھی مستعفی ہو چکے۔ جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی جلد ججز کے مستعفی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
