English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق نئی شرائط  کا تاثر غلط، اصلاحات پہلے سے طے شدہ ہیں، وزارتِ خزانہ

القمر

اسلام آباد: وزارتِ خزانہ نے آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت جاری اصلاحات کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز میں شامل اقدامات کسی نئی یا اچانک عائد کی گئی شرائط کا حصہ نہیں بلکہ حکومتِ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پہلے سے طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے کا تسلسل ہیں۔

جاری کردہ ایک تفصیلی اعلامیے میں وزارتِ خزانہ نے واضح کیا کہ ای ایف ایف پروگرام کے تحت اصلاحات مرحلہ وار انداز میں نافذ کی جاتی ہیں اور ہر جائزے کے ساتھ ایسے اقدامات شامل کیے جاتے ہیں جو پروگرام کے آغاز میں طے کیے گئے حتمی اہداف کے حصول میں مددگار ہوں، دوسرے جائزے کے بعد طے پانے والا ایم ای ایف پی پہلے جائزے کے میمورنڈم کا تسلسل ہے، کوئی الگ یا غیر متوقع دستاویز نہیں۔

وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ جن اقدامات کو بعض حلقے نئی شرائط  قرار دے رہے ہیں، ان میں سے کئی اصلاحات حکومتِ پاکستان پہلے ہی شروع کر چکی تھی یا ان پر عملی کام جاری تھا,  آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکومت اپنی مجوزہ پالیسی اصلاحات پیش کرتی ہے اور جہاں یہ اصلاحات پروگرام کے اہداف سے ہم آہنگ ہوں، انہیں ایم ای ایف پی کا حصہ بنا لیا جاتا ہے۔

اعلامیے میں وضاحت کی گئی کہ سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشواروں کی اشاعت کا معاملہ مئی 2024 سے ای ایف ایف پروگرام میں شامل ہے اور سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں ترمیم کے بعد یہ اگلا منطقی قدم ہے,  اسی طرح نیب کی مؤثر کارکردگی اور صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کے ساتھ تعاون مضبوط بنانے پر بھی پہلے ہی اتفاق ہو چکا تھا۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق زیادہ خطرات سے دوچار اداروں کے لیے ایکشن پلان، اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق اصلاحات، اور صوبائی اداروں کو مالی معلومات کی فراہمی بھی ای ایف ایف پروگرام کے آغاز سے شامل اصلاحات کا حصہ ہیں۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔ غیر رسمی ذرائع کی حوصلہ شکنی کے نتیجے میں مالی سال 2025 کے دوران ترسیلاتِ زر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 26 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مالی سال 2026 میں مزید 9.3 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ حکومت اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ترسیلاتِ زر کی لاگت کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جنہیں آئی ایم ایف نے مزید تقویت دیتے ہوئے ایم ای ایف پی میں شامل کیا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق مقامی بانڈ مارکیٹ، شوگر سیکٹر کی اصلاحات، ایف بی آر میں اصلاحاتی روڈ میپ، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری، بڑے سرکاری اداروں کے ساتھ پبلک سروس آبلیگیشن معاہدے، کمپنیز ایکٹ اور اسپیشل اکنامک زونز سے متعلق ترامیم بھی پہلے سے طے شدہ اصلاحاتی فریم ورک کا حصہ ہیں۔

اعلامیے کے آخر میں وزارتِ خزانہ نے زور دیا کہ تازہ ایم ای ایف پی میں شامل تمام اقدامات پاکستان کی معاشی بحالی، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے ایک جامع اور مرحلہ وار اصلاحاتی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں اور انہیں اچانک یا غیر متوقع شرائط قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔

  • وہاج فاروقی
  • ویب ڈیسک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے