ریاض: سعودی حکومت نے حج و عمرہ کے دوران بچوں کی حفاظت کے لیے نیا نظام متعارف کروا دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی حکومت نے حج اور عمرہ کے دوران بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑا اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے ایک نیا حفاظتی نظام متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد لاکھوں زائرین کے ہجوم میں بچوں کے والدین سے بچھڑنے کے خدشے کو کم سے کم کرنا ہے۔
خادمین حرمین شریفین کی خصوصی ہدایات پر یہ اقدام کیا گیا ہے تاکہ اللہ کے مہمانوں، خصوصاً کم عمر زائرین کی سلامتی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو اور والدین بے فکری کے ساتھ عبادات انجام دے سکیں۔
دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں فرزندانِ توحید حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پہنچتے ہیں۔ مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں غیر معمولی رش، طواف اور نمازوں کے اوقات میں شدید ہجوم اور بعض اوقات موسم کی سختی ایسے عوامل ہیں جو بچوں کے لیے خطرات بڑھا دیتے ہیں۔
ایسے ماحول میں بچوں کا والدین یا سرپرستوں سے بچھڑ جانا ایک نہایت پریشان کن اور حساس صورتحال بن جاتی ہے، جس سے نہ صرف بچے خوف کا شکار ہوتے ہیں بلکہ والدین بھی شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
ان خدشات کے پیش نظر سعودی حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ حج اور عمرہ کے دوران بچوں کو خصوصی سیفٹی رسٹ بینڈز پہنائے جائیں گے۔
مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والی جنرل اتھارٹی کے حکام نے اس فیصلے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ رسٹ بینڈز جدید طرز پر تیار کیے گئے ہیں تاکہ ہنگامی صورت حال میں فوری مدد ممکن ہو سکے۔ یہ قدم زائرین کی سہولت اور بچوں کی حفاظت کے لیے ایک عملی اور مؤثر حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق بچوں کی کلائی پر بندھنے والے ان اسمارٹ رسٹ بینڈز میں والدین یا سرپرستوں سے متعلق تمام ضروری معلومات محفوظ ہوں گی۔ ان تفصیلات میں والدین کا نام، رابطہ نمبر اور دیگر بنیادی معلومات شامل ہوں گی، جس کی بدولت اگر کوئی بچہ ہجوم میں گم ہو جائے یا والدین سے بچھڑ جائے تو متعلقہ عملہ فوری طور پر اس کی شناخت کر سکے گا۔
اس نظام کے تحت بچے کو محفوظ مقام پر رکھا جائے گا اور درج شدہ معلومات کی مدد سے والدین یا سرپرستوں کو تلاش کر کے بچے کو ان کے حوالے کر دیا جائے گا۔
سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ خصوصی رسٹ بینڈز مسجد الحرام کے باب عبدالعزیز اور باب فہد، جو گیٹ نمبر 79 کے نام سے جانا جاتا ہے، پر دستیاب ہوں گے۔ ان مقامات پر تربیت یافتہ عملہ موجود ہوگا جو والدین کی رہنمائی کرے گا اور بچوں کی رجسٹریشن کے عمل میں مدد فراہم کرے گا۔
والدین بآسانی اپنے بچوں کے لیے یہ رسٹ بینڈز حاصل کر سکیں گے تاکہ عبادات کے دوران انہیں کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ اقدام سعودی حکومت کی جانب سے حجاج اور معتمرین کی خدمت کے عزم کا ایک اور ثبوت ہے، جس کے تحت ہر سال سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر انتظامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
اس فیصلے کو دنیا بھر سے آنے والے زائرین نے خوش آئند قرار دیا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا بلکہ والدین کے لیے بھی ذہنی سکون کا باعث بنے گا۔ سعودی عرب کا یہ قدم حج و عمرہ کے دوران انسانی جانوں کے تحفظ اور نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
