English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اے پی ایس شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف دوٹوک عزم

القمر

اسلام آباد: دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی تمام اقسام اور شکلوں کے خلاف اپنی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گا۔

آرمی پبلک اسکول پشاور پر ہونے والے دلخراش دہشت گردانہ حملے کی برسی کے موقع پر جاری بیان میں معصوم شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ قربانیاں پوری قوم کے اس غیر متزلزل عزم کی علامت ہیں کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

دفتر خارجہ کے مطابق اے پی ایس کا سانحہ تاریخ کی بدترین اور انسانیت سوز دہشت گرد کارروائیوں میں شمار ہوتا ہے، جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ اے پی ایس کے شہدا کی یاد آج بھی اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ایک فوری اور ناگزیر عالمی ضرورت ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جہاں نوے ہزار سے زائد قیمتی جانیں اس جنگ کی نذر ہوئیں اور معیشت، سماج اور قومی ڈھانچے کو ناقابلِ تلافی نقصانات اٹھانا پڑے۔

دفتر خارجہ کے مطابق یہ اعداد و شمار اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کیا اور عالمی امن کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔

وزارت خارجہ کے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر، مسلسل اور فیصلہ کن کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان آپریشنز کے نتیجے میں کئی خطرناک نیٹ ورکس کا خاتمہ ہوا اور دہشت گردوں کی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کو آج بھی سرحد پار موجود دہشت گرد عناصر سے مسلسل خطرات لاحق ہیں، جنہیں بعض دشمن قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ پاکستان نے اس سنگین چیلنج کی نشاندہی عالمی سطح پر بارہا کی ہے اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت اور عملی اقدامات کیے ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے نہ صرف اپنی سرزمین کے اندر دہشت گردی کے خلاف مضبوط دفاع قائم کیا بلکہ اپنی سرحدوں سے باہر بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کے خلاف ایک مضبوط دیوار کا کردار ادا کیا۔ اس کردار کے باعث خطے میں ہی نہیں بلکہ خطے سے باہر بھی امن و استحکام کو تقویت ملی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی قربانیاں اس امر کی متقاضی ہیں کہ عالمی برادری دہشت گردی کے خاتمے کے لیے محض بیانات پر اکتفا نہ کرے بلکہ عملی اور ٹھوس اقدامات کرے۔

وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ، ان کی مالی، عسکری اور نظریاتی معاونت کی مکمل روک تھام اور سرحد پار دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عالمی حکمت عملی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اگر دہشت گردی کے تمام پہلوؤں کو یکساں سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو عالمی امن مسلسل خطرے میں رہے گا۔

دفتر خارجہ نے اے پی ایس شہدا کی یاد میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عوام کے تحفظ، اپنی خودمختاری کے دفاع اور امن کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدام کرتا رہے گا۔ قوم کی یہ اجتماعی سوچ ہے کہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کے خلاف یہ جدوجہد آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل تک جاری رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے