English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان کیساتھ جنگ کی تفصیلات ایک بار پھر منظرعام پر:گرائے گئے بھارتی رافیل کے نمبر جاری

القمر

پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی مختصر مگر انتہائی شدید فضائی جھڑپ سے متعلق ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے خطے میں دفاعی اور عسکری بحث کو ایک بار پھر گرم کر دیا ہے۔

لندن سے شائع ہونے والے معروف برطانوی دفاعی جریدے کی تازہ تحقیقی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس فضائی تصادم کے دوران بھارتی فضائیہ کے 4جدید رافیل لڑاکا طیارے تباہ ہوئے جب کہ بھارت ان نقصانات کے حوالے سے تاحال واضح شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی دفاعی میگزین نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ فضائی جنگ تقریباً 52 منٹ تک جاری رہی، جس میں دونوں ممالک کی فضائی قوتیں آمنے سامنے آئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران پاکستان نے مربوط، منظم اور جدید ملٹی ڈومین آپریشنز کے ذریعے بھارتی فضائیہ کو شدید دھچکا پہنچایا۔ اسی تحقیق میں ان 4رافیل طیاروں کے سیریل نمبرز بھی سامنے لائے گئے ہیں جو اس جھڑپ میں تباہ ہوئے، جن میں بی ایس 001، بی ایس 021، بی ایس 022 اور بی ایس 027 شامل ہیں۔

رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ بھارت ان رافیل طیاروں کے سیریل نمبرز کے ساتھ کوئی ایسی مصدقہ تصاویر یا شواہد پیش نہیں کر سکا جو ان کے محفوظ رہنے کو ثابت کر سکیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال بھارتی مؤقف کو کمزور کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب رافیل طیاروں کو بھارتی فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے اور ان پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

برطانوی جریدے کی تحقیق کے مطابق بھارتی فضائیہ کو اس جھڑپ میں مجموعی طور پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رافیل طیاروں کے علاوہ ایک مگ 29، ایک ایس یو 30 اور ایک ہیرون ڈرون بھی تباہ ہوا، جس سے بھارتی فضائی طاقت کو نمایاں دھچکا لگا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی فضائی اور دفاعی حکمت عملی نے بھارتی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا اور اسے بروقت اور مؤثر ردعمل دینے سے روک دیا۔

تحقیقی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ 10 مئی کو پاکستانی فضائیہ کے جے ایف 17 سی بلاک 3 طیارے نے ادھم پور میں نصب بھارتی دفاعی نظام ایس 400 کو نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ اسی کے ساتھ برنالا کے مقام پر بھارتی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو بھی ناکارہ بنایا گیا، جس کے باعث بھارتی افواج کے درمیان رابطے اور کمانڈ میں شدید خلل پیدا ہوا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں جدید جنگی حکمت عملی کی واضح مثال تھیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی سائبر یونٹس نے اس تنازع کے دوران غیر معمولی کردار ادا کیا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی سائبر کارروائیوں کے نتیجے میں بھارت کے تقریباً 96 فیصد سوشل نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل نظام عارضی طور پر مفلوج ہو گئے۔

جریدے کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب کسی فضائیہ نے روایتی عسکری طاقت اور سائبر جنگ کو یکجا کر کے مؤثر انداز میں استعمال کیا، جس سے جنگ کے میدان میں برتری حاصل کی گئی۔

برطانوی دفاعی جریدے نے ایک بار پھر یاد دلایا ہے کہ بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان ایک انٹرویو میں اس امر کا اعتراف بھی کر چکے ہیں کہ اس کشیدگی کے دوران بھارتی طیاروں کو نقصان پہنچا۔

اس تناظر میں ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے قبل پاکستان نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے دوران بھارتی مگ 21 طیارہ مار گرایا تھا، جو خطے کی عسکری تاریخ کا ایک اہم واقعہ بن چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے