واشنگٹن: امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک اور سخت فیصلہ کرتے ہوئے افغان شہریوں کے لیے اسپیشل امیگرنٹ ویزا (SIV) پروگرام بھی معطل کر دیا ہے، جسے افغان مترجمین، معاونین اور دیگر اہل افراد کے لیے ایک اہم حفاظتی راستہ سمجھا جاتا تھا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس فیصلے کو افغانستان کی بگڑتی ہوئی سیکورٹی صورتحال، شدت پسندی کے خدشات اور امریکی داخلی سلامتی سے جوڑ کر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم انسانی حقوق کے حلقوں اور افغان کمیونٹی میں اس اقدام پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نئے صدارتی حکم نامے کے تحت افغان اسپیشل امیگرنٹ ویزا سے متعلق وہ حفاظتی استثنا بھی ختم کر دیا گیا ہے جو ماضی میں بعض حساس حالات کے پیشِ نظر دیا جاتا تھا۔ اس تبدیلی کے بعد وہ افغان مترجمین اور معاونین بھی اس سہولت سے محروم ہو گئے ہیں جنہوں نے ماضی میں امریکی افواج، سفارتی مشنز یا بین الاقوامی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دیں اور جنہیں طالبان یا دیگر شدت پسند گروہوں کی جانب سے خطرات لاحق تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کو اب ان ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جن پر مکمل سفری پابندیاں یا سخت ترین امیگریشن ضوابط لاگو ہیں۔ اس فیصلے کے بعد افغان شہریوں کے لیے امریکا میں داخلے کے قانونی راستے مزید محدود ہو گئے ہیں، جبکہ امیگریشن، شہریت اور گرین کارڈ سے متعلق درخواستوں پر بھی عارضی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اسکریننگ کے ناقص نظام، معلومات کے تبادلے میں مشکلات اور ممکنہ سیکورٹی خطرات کے باعث ناگزیر ہو چکے تھے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں پیش آنے والے ایک واقعے نے بھی ان پابندیوں کو مزید سخت کرنے میں کردار ادا کیا، جس میں ایک افغان نژاد فرد پر سنگین جرائم کے الزامات سامنے آئے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایسے واقعات نے قومی سلامتی سے متعلق خدشات کو تقویت دی ہے، جس کے باعث امیگریشن پالیسی پر نظرثانی ضروری سمجھی گئی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ چند انفرادی واقعات کی بنیاد پر پوری قوم کو سزا دینا ناانصافی کے مترادف ہے۔
امریکی فیصلے کے اثرات عالمی سطح پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ یورپی ممالک سمیت کئی ریاستوں نے افغان شہریوں کے حوالے سے احتیاطی اقدامات بڑھا دیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جرمنی نے افغان پناہ گزینوں کے لیے اپنا پروگرام معطل کیا، برطانیہ نے سخت ٹریول ایڈوائزری جاری کی جب کہ آسٹریلیا نے بھی افغان شہریوں کے لیے ویزا پالیسی مزید سخت کرنے اور سفارتی سطح پر اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔
ان فیصلوں نے افغانستان سے نقل مکانی کے خواہشمند ہزاروں افراد کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ افغان اسپیشل امیگرنٹ ویزا پروگرام کی معطلی ان افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے جنہوں نے ماضی میں مغربی افواج کا ساتھ دیا اور اب اپنے ہی ملک میں خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف امریکا کی اخلاقی ذمہ داریوں پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ افغان کمیونٹی اور بین الاقوامی حلقے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
