اسلام آباد: حکومت نے بجلی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے مالی دباؤ اور سرکلر ڈیٹ میں غیر معمولی اضافے کے خدشات کے پیش نظر 200 ارب روپے کی بجلی سبسڈی کی منظوری دے دی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس کا مقصد آئندہ 6 ماہ کے دوران بجلی کے شعبے میں نقدی کے شدید مسائل پر قابو پانا اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے شدہ حدود کے اندر رہتے ہوئے سرکلر ڈیٹ کے بہاؤ کو محدود کرنا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے جاتے تو سرکلر ڈیٹ میں خطرناک حد تک اضافہ معیشت کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا تھا۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی کے شعبے میں وصولیوں، پاور پروڈیوسرز کو ادائیگیوں اور ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کے باعث سرکلر ڈیٹ دسمبر کے اختتام تک 2105 ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے، جو جون کے مقابلے میں تقریباً 500 ارب روپے زیادہ ہوگا۔ اسی اضافے کو قابو میں رکھنے اور آئی ایم ایف کے مقررہ اہداف تک لانے کے لیے حکومت کو 200 ارب روپے کی اضافی سبسڈی فراہم کرنا ناگزیر قرار دیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق اس سبسڈی میں سے 105 ارب روپے براہ راست سرکاری خزانے سے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ باقی رقم بجلی کے شعبے کے لیے پہلے سے مختص سبسڈی کے اندر ایڈجسٹ کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں بجلی سبسڈی کے لیے ایک کھرب روپے سے زائد رقم رکھی گئی تھی، تاہم آئی ایم ایف کے جائزے کے بعد اس میں نمایاں کمی کی گئی۔ اس کے باوجود ہر سال بھاری مالی معاونت کے باوجود بجلی کے شعبے کی مجموعی کارکردگی بدستور تشویشناک رہی ہے، جس نے حکومتی پالیسیوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مزید برآں ای سی سی کو آگاہ کیا گیا کہ اگر بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو بروقت ادائیگیاں نہ کی گئیں تو نہ صرف بجلی کی دستیابی متاثر ہوگی بلکہ صنعتی سرگرمیاں بھی سست روی کا شکار ہو سکتی ہیں۔ حکومتی ضمانتوں کے باعث تاخیر کی صورت میں جرمانوں اور اضافی مالی بوجھ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، جو بالآخر قومی خزانے پر ہی پڑتا ہے۔
دریں اثنا پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا کہ فوری سبسڈی سے سرکلر ڈیٹ کے بہاؤ کو عارضی طور پر قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں ای سی سی نے ملک کی مجموعی مالی مشکلات کے باوجود ارکانِ پارلیمان کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے بھی اربوں روپے کی منظوری دی۔ مختلف صوبوں میں ایس ڈی جیز پروگرام، ترقیاتی منصوبوں، دفاعی ضروریات، تعلیمی اداروں کے قیام، نوجوانوں کی مہارتوں کے فروغ اور دیگر سماجی منصوبوں کے لیے اضافی فنڈز مختص کیے گئے۔ ناقدین کے مطابق معاشی دباؤ کے دور میں یہ فیصلے حکومتی ترجیحات پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔
اجلاس میں مہنگائی کی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جہاں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں افراطِ زر میں مجموعی طور پر بہتری دیکھی گئی، تاہم قدرتی آفات اور سپلائی میں رکاوٹوں نے وقتی دباؤ پیدا کیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات سے قیمتوں میں استحکام آیا ہے، جس کے اثرات آئندہ مہینوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے توانائی کی بچت، بجلی کے کم استعمال اور اصلاحاتی اقدامات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ مستقبل میں توجہ وصولیوں میں بہتری، لائن لاسز میں کمی، نجی شعبے کی شمولیت اور توانائی کے شعبے میں دیرپا اصلاحات پر مرکوز کی جائے، تاکہ ہر سال سبسڈی کے بوجھ سے نکل کر ایک مستحکم نظام کی بنیاد رکھی جا سکے۔
