English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فضل الرحمن کی فلسطین میں فوج نہ بھیجنے اور دفاعی اداروں کو سیاسی کردار سے دور رکھنے کا مطالبہ

القمر

کراچی: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کی دفاعی قوت کو مضبوط ہونا چاہیے مگر اس کا کردار خالصتاً دفاعی ہونا ضروری ہے، سیاسی معاملات میں بالادستی عوام اور سیاسی قیادت کا حق ہے۔

 گورنر ہاؤس کراچی میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ فلسطین کے تنازع میں پاکستان کو کسی بھی صورت فوج بھیجنے یا کسی امن فورس کا حصہ بننے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔

تقریب کے دوران گورنر سندھ نے انہیں اعزازی ڈگری سے نوازا جس پر مولانا فضل الرحمان نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اعزاز کے بجائے مولانا  کہلانا زیادہ پسند کرتے ہیں،  مذہبی و سماجی روایات ہماری پہچان ہیں جنہیں برقرار رکھنا ضروری ہے۔

افغان تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کے معاملے کو صرف حالیہ واقعات کی بنیاد پر نہیں پرکھا جاسکتا۔ ان کے مطابق پاکستان کی گزشتہ 78 سالہ افغان پالیسی سوال طلب رہی ہے، کیونکہ ظاہر شاہ سے لے کر اشرف غنی تک کوئی بھی افغان حکومت پاکستان کے ساتھ دیرپا تعلقات میں کامیاب نظر نہیں آئی، ہمیں محض الزام تراشی نہیں بلکہ خود احتسابی کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی۔

ملکی قانون سازی کے حوالے سے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان قرآن و سنت سے ہم آہنگ ہونے کا تقاضا کرتا ہے لیکن بعض حالیہ قوانین مثلاً کم عمری کی شادی، گھریلو تشدد اور ٹرانس جینڈر بل عالمی دباؤ پر تیار کیے گئے،مذہبی اداروں سمیت ہر شعبے میں بین الاقوامی رینکنگ میں بہتری وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے دفاعی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنائے بغیر کہا کہ ملکی دفاعی پوزیشن میں بہتری حوصلہ افزا ہے، تاہم اسے سیاسی میدان میں اثر انداز نہیں ہونا چاہیے، اگر ادارے اپنی حدود کے اندر رہیں تو جمہوریت، سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان توازن قائم رہے گا اور یہ ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

غزہ میں فوج بھیجنے کے سوال پر انہوں نے خبردار کیا کہ ماضی کی غلطیاں نہیں دہرانی چاہئیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اردن میں جنرل ضیا الحق کے کردار پر فلسطینی آج تک نالاں ہیں، اسی لیے کسی بھی جنگ کیپنگ فورس کا حصہ بننے سے گریز کیا جائے۔

افغان مہاجرین کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ انہیں مہمانوں کی طرح ڈیل کیا جائے اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے، کیونکہ پاکستان کی معیشت میں افغان شہریوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے اور کسی بھی اچانک اقدام سے معاشی نقصانات ہوسکتے ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے