اسلام آباد: رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران پاکستان کو بیرونی مالی معاونت کے محاذ پر نمایاں پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق جولائی سے نومبر تک کے عرصے میں پاکستان نے 3 ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرض اور مالی معاونت حاصل کی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس سال پاکستان کو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.64 فیصد اضافی فنڈز موصول ہوئے، جن کی مالیت 36 کروڑ 40 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ میں پاکستان کو مجموعی طور پر 2 ارب 66 کروڑ ڈالر کی بیرونی مالی معاونت حاصل ہوئی تھی، جب کہ رواں مالی سال اسی مدت میں یہ رقم 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس اضافے کو عالمی مالیاتی اداروں، دوست ممالک اور سرمایہ کاری کے مختلف ذرائع سے ملنے والی رقوم کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے پاکستان کو ایک ارب 25 کروڑ ڈالر فراہم کیے، جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے 80 کروڑ 76 لاکھ ڈالر کی مالی معاونت موصول ہوئی۔ اس کے علاوہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے تحت بھی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے ذریعے 96 کروڑ 59 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان آئی، جو بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور سعودی عرب نے پاکستان کو سب سے زیادہ قرض فراہم کیا۔
حاصل کردہ بیرونی قرض کی پاکستانی کرنسی میں مجموعی مالیت 858 ارب 27 کروڑ روپے بنتی ہے، جو گزشتہ سال اسی مدت میں ملنے والے 741 ارب روپے کے مقابلے میں 117 ارب روپے زیادہ ہے۔ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران بیرونی مالی وسائل تک رسائی میں بہتری آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق 5 ماہ کے دوران نان پراجیکٹ ایڈ کی مد میں 531 ارب روپے سے زائد قرضہ حاصل کیا گیا، جس میں بجٹ سپورٹ کے لیے 273 ارب روپے سے زیادہ کی رقم شامل ہے۔ اسی عرصے میں اسلامی ترقیاتی بینک نے 109 ارب روپے کا شارٹ ٹرم قرضہ فراہم کیا، جو مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق 5 ماہ میں 141 ارب 76 کروڑ روپے کی سعودی آئل فیسلٹی بھی حاصل کی گئی، جو 50 کروڑ ڈالر کے مساوی ہے اور توانائی کے شعبے میں مالی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی 327 ارب روپے سے زائد قرضہ حاصل کیا گیا، جس کا مقصد انفرااسٹرکچر، سماجی ترقی اور دیگر اہم شعبوں میں جاری منصوبوں کو آگے بڑھانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو جولائی سے نومبر کے دوران 15 ارب 32 کروڑ روپے کی گرانٹس بھی موصول ہوئیں، جو قرض کے بغیر حاصل ہونے والی مالی معاونت ہے۔
ذرائع اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق رواں مالی سال کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 20 ارب ڈالر کی بیرونی مالی معاونت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
