English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آئی ایم ایف کی بڑی شرط: حکومت کا گندم خریداری نظام سے نکلنے کا فیصلہ

القمر

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پوری کرتے ہوئے گندم کی خریداری کے عمل سے مکمل طور پر باہر نکلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتیں اب براہِ راست گندم نہیں خریدیں گی بلکہ صرف ایمرجنسی اور اسٹریٹجک ذخائر تک خود کو محدود رکھیں گی جب کہ خریداری، فنانسنگ اور ذخیرہ اندوزی کی ذمہ داری نجی کمپنیوں کے سپرد کر دی جائے گی۔

حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس پالیسی تبدیلی کا مقصد مالی دباؤ کم کرنا، سبسڈی کے بوجھ سے نجات حاصل کرنا اور زرعی شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت وفاق اور صوبے مجموعی طور پر سال بھر کے لیے 62 لاکھ میٹرک ٹن گندم کا ایمرجنسی اسٹاک رکھیں گے۔ اس میں وفاقی حکومت 15 لاکھ میٹرک ٹن، پنجاب 25 لاکھ میٹرک ٹن، سندھ 10 لاکھ میٹرک ٹن، خیبرپختونخوا ساڑھے 7 لاکھ میٹرک ٹن جبکہ بلوچستان 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم ذخیرہ کرے گا، تاہم یہ گندم بھی حکومت خود خریدنے کے بجائے نجی کمپنی کے ذریعے حاصل کرے گی، جسے خریداری، نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے کی مکمل ذمہ داری دی جائے گی۔

وزارتِ صنعت و پیداوار کے مطابق نجی کمپنی نہ صرف گندم کی خریداری کرے گی بلکہ اس کی فنانسنگ اور ذخیرہ کرنے کی ذمہ دار بھی ہوگی۔  حکومت کی جانب سے اس کمپنی کو صرف سروسز چارجز ادا کیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام کے نتیجے میں حکومت کو سالانہ تقریباً 570 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، جو اس وقت گندم کی خریداری، سبسڈی اور بینک فنانسنگ پر خرچ ہو رہے تھے۔ وزارتِ غذائی تحفظ نے سروسز چارجز کی ادائیگی کے لیے 30 ارب روپے مختص کر دیے ہیں۔

اس فیصلے کے ساتھ ہی گندم کی سپورٹ پرائس اور سبسڈی کا خاتمہ بھی کر دیا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق اب گندم کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق کیا جائے گا۔  وزارتِ غذائی تحفظ عالمی بینچ مارک کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا تعین کرے گی، جس کا مقصد مارکیٹ میں مصنوعی مداخلت کم کرنا اور طلب و رسد کے قدرتی توازن کو بحال کرنا ہے۔

یاد رہے کہ آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت کو امدادی قیمت مقرر کرنے سے پہلے ہی روک رکھا ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ ناگزیر سمجھا جا رہا تھا۔

ذرائع کے مطابق ماضی میں وفاقی حکومت گندم کی خریداری کے لیے بینک گارنٹی فراہم کرتی تھی اور پاسکو (پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن) خریداری کا عمل انجام دیتی تھی، تاہم بروقت ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث فوڈ سیکٹر میں گردشی قرض بڑھ کر 270 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اسی مالی دباؤ کے باعث حکومت نے گندم کی خریداری سے دستبردار ہونے اور نجی شعبے کو اس عمل میں مرکزی کردار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی تبدیلی سے ایک جانب مالی نظم و ضبط بہتر ہوگا تو دوسری جانب گندم کے نظام میں شفافیت اور مسابقت بڑھے گی۔

زرعی ماہرین اور کسان تنظیموں کی جانب سے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے، جن کا کہنا ہے کہ سرکاری سپورٹ کے بغیر کسانوں کو عالمی منڈی کی قیمتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے