English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغانستان میں غذائی بحران شدید ، ایک کروڑ 70 لاکھ افراد بھوک کا شکار

القمر

کابل : افغانستان میں طالبان حکومت کے دوران غذائی قلت خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جہاں ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید بھوک اور افلاس کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ متاثرین میں 40 لاکھ سے زائد بچے شامل ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر عالمی امداد فراہم نہ کی گئی تو افغانستان میں انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غذائی قلت کے باعث متاثرہ بچوں کی تعداد 40 لاکھ سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جو ایک بڑے انسانی المیے کی نشاندہی کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں لاکھوں افراد شدید سرد موسم میں بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، نہ ان کے پاس مناسب خوراک موجود ہے، نہ گرم کپڑے اور نہ ہی رہائش کے لیے محفوظ ٹھکانے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر عالمی امدادی اداروں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ افغان عوام، خصوصاً بچوں کے لیے خوراک، طبی امداد اور بنیادی ضروریات کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

یونیسیف نے بھی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غذائی قلت کے شکار بچے جسمانی کمزوری کے ساتھ ساتھ قوتِ مدافعت میں شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث بیماریوں اور اموات کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے دیگر اداروں نے بھی افغانستان میں بگڑتی انسانی صورتحال پر فوری توجہ اور امداد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • فاروق اعظم صدیقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے