لاہور: فاﺅنڈر ز گروپ کے سرگرم رکن ،پاکستان ا سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ، سینئر نائب صدر فیروز پور روڈ بورڈاورسابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس خادم حسین نے کہا ہے کہ کئی طرح کے چیلنجز درپیش ہونے کی وجہ سے گزشتہ 18 ماہ کے دوران 150 سے زائد بڑے یونٹس بند ہوچکے ہیں ۔
باقی بچ جانے والے یونٹس میں سے زیادہ تر صرف 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ کام کررہے ہیں جو تشویش کا باعث ہے۔
انتہائی سخت مانیٹری ،مالیاتی پالیسیاں، خطے کے دیگر حریفوں کے مقابلے میں توانائی کے زائد نرخ اور صنعت و زراعت کے لیے ریلیف کا خاتمہ یونٹس کے بند ہونے کا بڑا سبب ہیں۔
ان خیالات کا اظہارانہوںنے ملاقات کے لیے آنے والے صنعتکاروںکے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صنعتوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
خادم حسین نے کہا کہ حکومتی ذمہ داران کی جانب سے پالیسیوں کا اعلان تو کیا جاتا ہے لیکن ان پر عملدرآمد نظر نہیں آتا ،حکومت کی جانب سے کیے گئے دعوﺅں کے باوجود کاروباری شعبہ ترقی کے انجن کے طور پر کام کرنے میں ناکام رہا ہے۔
انہوںنے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ 2019 سے آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام کو سخت پیشگی شرائط میں نرمی کرنے یا انہیں مرحلہ وار ختم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رکھی جس کی بنیادی وجہ ماضی میں اصلاحات پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد کرنے میں ناکامی ہے۔
ان شرائط میں وہ ڈسکاﺅنٹ ریٹ بھی شامل ہے جو 10.5 فیصد تک نیچے آنے کے باوجود علاقائی حریفوں کے مقابلے میں اب بھی تقریباً دوگنا ہے۔
انہوںنے کہا کہ صنعتکاروں کو درپیش مشکلات کے حل اور ترقی کے لیے بیورو کریسی کی بجائے حقیقی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا آغاز کیا جائے تاکہ کوئی راستہ نکل سکے۔
