واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے متعلق آپریشن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے مکمل ہوئی،ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے ایک طویل اور پیچیدہ منصوبہ تیار کیا گیا تھا، نتائج اندازوں سے کہیں پہلے حاصل کرلیے گئے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران اب معاہدہ کرنا چاہتا ہے، وقت گزر چکا ہے،یہ فیصلہ ایران کو پہلے کر لینا چاہیے تھا اور معاہدہ ایک ہفتہ پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں نے ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے ایک طویل آپریشن کا تخمینہ لگایا تھا،عسکری ماہرین اس کارروائی کو دو سے تین ہفتوں بلکہ تقریباً چار ہفتوں پر محیط آپریشن سمجھ رہے تھے، حقیقت میں یہ ہدف ایک ہی دن میں حاصل کرلیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا ہدف شیڈول سے بہت پہلے حاصل کرلیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق آیت اللہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کی کئی ہفتوں سے کڑی نگرانی کی جا رہی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی دوران امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو اہم معلومات موصول ہوئیں اور اس نادر موقع سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
امریکی صدر نے برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہیں برطانوی حکومت کے ایک فیصلے سے شدید مایوسی ہوئی، برطانیہ نے اپنے زیر انتظام اہم فوجی اڈے کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ بحرِ ہند میں واقع اسٹریٹجک اہمیت کے حامل فوجی اڈے ڈیگو گارسیا کو استعمال کرنے کی منظوری نہ ملنا ان کے لیے باعث افسوس تھا، ماضی میں امریکا اور اس کے اتحادی مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں فوجی کارروائیوں کے لیے اس اڈے کو استعمال کرتے رہے ہیں۔
