English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

علی لاریجانی مذاکرات کی میز پر معاملات حل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے :سابق سربراہ آئی اے ای اے

القمر

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سابق سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مرحوم سیکرٹری علی لاریجانی ایک ایسے رہنما اور مذاکرات کار تھے جن کے ساتھ سنجیدہ گفتگو کے ذریعے معاملات کو حل کیا جا سکتا تھا۔

اپنے تازہ بیان میں محمد البرادعی نے علی لاریجانی کی فکری اور علمی شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کم ہی لوگ اس بات سے آگاہ ہیں کہ انہوں نے جرمن فلسفی عمانویل کانٹ کے نظریات پر چار کتابیں تحریر کیں، جو ان کی علمی گہرائی اور فلسفے میں دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کے مطابق علی لاریجانی نہ صرف ایک ماہر سیاستدان تھے بلکہ ایک ایسے فکری پس منظر کے حامل شخص بھی تھے جن کے ساتھ باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے پیچیدہ مسائل کو حل کرنا ممکن تھا۔

محمد البرادعی نے مزید انکشاف کیا کہ اپنی شہادت سے کچھ ہی روز قبل علی لاریجانی کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے مطابق یہ ملاقات کریملن میں منعقد ہوئی تھی، جہاں ملاقات سے قبل نماز کے وقت لاریجانی نے انتہائی سادہ انداز میں دروازے کے پاس موجود دو میٹس کو ملا کر ان پر کاغذ اور رومال بچھایا اور نماز ادا کی، جس منظر کی ویڈیو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

البرادعی کے اس بیان نے ایک بار پھر علی لاریجانی کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے، جن میں ان کی سادگی، علمی گہرائی اور سفارتی مہارت کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے