ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جدید ترین ایف-35 جنگی طیارہ، جسے امریکی عسکری برتری اور طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے، کو نشانہ بنا کر دنیا کو ایک اہم پیغام دیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف-35 کو طویل عرصے سے ایسی ٹیکنالوجی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے جو ہر آنکھ سے اوجھل اور ہر دفاعی نظام سے برتر تصور کی جاتی ہے، تاہم ان کے مطابق حقیقی طاقت صرف اور صرف خدا کے اختیار میں ہے اور اسی قدرت کے تحت اس علامت کو چیلنج کیا گیا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ دنیا میں پہلی بار اس نوعیت کی علامت کو نشانہ بنایا گیا ہے، جو ان کے بقول کسی بھی نظام کے لیے ایک سنگ میل اور طاقت کے توازن میں تبدیلی کی علامت بن سکتا ہے۔ قالیباف کے مطابق یہ واقعہ عالمی سطح پر موجود طاقت کے دعووں کو نئے سرے سے جانچنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل مختلف رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایرانی دفاعی نظام کی جانب سے ایک امریکی ایف-35 طیارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مبینہ طور پر نشانہ بننے کے بعد ایک ایف-35 طیارے کو مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فضائی اڈے پر ہنگامی طور پر لینڈنگ کرنا پڑی، تاہم اس واقعے کی تفصیلات اور نقصانات کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
