واشنگٹن: امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں میرینز اور بحری دستوں کو روانہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تقریباً 4 ہزار میرینز پر مشتمل ایک اہم گروپ کو اس خطے کی جانب سفر کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
مذکورہ عسکری نقل و حرکت کا دائرہ کار وسیع ہونے کا بھی امکان ہے اور حکام کے مطابق اضافی بحری جہازوں اور مزید فوجی دستوں کی شمولیت سے ان اہلکاروں کی کل تعداد 8 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ اقدام خطے میں جاری کشیدگی اور بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس تعیناتی کا بنیادی مقصد خلیج فارس میں سلامتی کے امور کو یقینی بنانا ہے۔ اس حکمت عملی کا اہم پہلو آبنائے ہرمز کی بحری گزرگاہ کو ہر صورت میں کھلا رکھنا ہے، جس کی اہمیت عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے مسلمہ اور ناگزیر ہے۔
حکام نے مزید کہا کہ سابقہ امریکی پالیسیوں اور صدر کے بیانات کی روشنی میں واشنگٹن آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے یکطرفہ اقدامات کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس لیے موجودہ فوجی تیاریوں میں ہر قسم کے ہنگامی حالات سے نمٹنے اور بحری راستوں کو محفوظ بنانے کا عزم واضح طور پر شامل ہے۔
خطے میں تعینات ہونے والے ان دستوں کا ایک اہم ہدف امریکی مفادات اور وہاں موجود فوجی اڈوں کا تحفظ کرنا بھی ہے۔
اس کے علاوہ یہ فوجی صلاحیت ممکنہ طور پر کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں فوری کارروائی کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ عسکری منصوبہ سازوں کی جانب سے ایران کے ساحلی علاقوں یا تزویراتی اہمیت کے حامل مقامات پر فوج اتارنے کے مختلف آپشنز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر سفارتی حلقوں میں بھی گہری تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
امریکا کی جانب سے یہ اقدام نہ صرف خطے میں اپنے اتحادیوں کو اعتماد دینے کی کوشش ہے بلکہ ایران کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہے کہ واشنگٹن اپنے مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
