بیجنگ: چین کی میزبانی میں ارومچی میں ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغانستان نے باہمی تنازع کے جامع اور پرامن حل کی جانب پیش رفت پر اتفاق کر لیا ہے، جسے خطے میں استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے گا جو کشیدگی میں اضافے یا صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
مذاکرات کے دوران چین نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان رابطہ کاری اور اعتماد سازی کو فروغ دینے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا۔
چینی ترجمان ماؤ نینگ نے بریفنگ میں بتایا کہ بیجنگ خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور پاکستان و افغانستان کے درمیان مؤثر مکالمے کو آگے بڑھانے میں سہولت کار کا کردار ادا کرے گا۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات میں پاکستان نے افغان حکام کے سامنے ٹی ٹی پی سے متعلق اہم مطالبات پیش کیے، جن میں ٹی ٹی پی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا، اس کے ڈھانچے کا خاتمہ اور اس کے خلاف کارروائی کے ٹھوس شواہد فراہم کرنا شامل ہیں۔
یہ مطالبات پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی کا مرکزی نکتہ سمجھے جا رہے ہیں، خاص طور پر سرحدی علاقوں میں بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں۔
واضح رہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان 5 اجلاس منعقد ہوئے، جن میں ابتدائی تعارف کے بعد سیکیورٹی، سرحدی خودمختاری، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے جیسے اہم نکات زیر بحث آئے۔
ان مذاکرات میں ایک جامع فریم ورک پر بھی غور کیا گیا جس میں سرحدی کشیدگی میں کمی، تجارتی گزرگاہوں کی بحالی، مہاجرین کے لیے باعزت انتظامات اور مؤثر کمیونیکیشن نظام شامل ہیں۔
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے بھی مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے باہمی تعلقات، سیکیورٹی خدشات اور علاقائی استحکام سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے چین کی میزبانی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس عمل سے باہمی اعتماد میں اضافہ ہوگا اور مستقبل میں تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق جلد ہی ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا امکان ہے جس میں ٹی ٹی پی، تجارت اور سرحدی معاملات پر پیش رفت کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کو بھی فروغ ملے گا۔
