فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے پر وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ بندی میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے خصوصی طور پر مبارکباد پیش کی ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا کہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اسلام آباد میں متوقع امن مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں گے اور اس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے صدر میکرون کے اس خیرسگالی کے پیغام پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دینے کی پالیسی پر کاربند رہے گا۔
اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے لبنان میں جاری صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس امر پر زور دیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، تشدد اور انسانی جانوں کے ضیاع کو فوری طور پر روکنا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
گفتگو کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے برقرار رکھنے اور اہم علاقائی و عالمی امور پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جسے سفارتی تعلقات کے استحکام اور تعاون کے فروغ کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ پیش رفت کے تقریباً 40 دن تک جاری رہنے والی کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا، جس کا باضابطہ اعلان بدھ کی رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیا گیا۔
جنگ بندی کے اعلان کے بعد اہم عالمی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم راستہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی بحالی کو عالمی منڈی کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکی جانب سے سفارتی اور عملی سطح پر کی گئی کوششوں کو بین الاقوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے، اور اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی راہ ہموار کرنے کی ایک سنجیدہ کاوش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
