ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے امریکا اور اسرائیل کی جارحیت روکنے کے لیے عبوری جنگ بندی ممکن بنانے پر پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں بھرپور اور بااختیار انداز میں شرکت کرے گا، اور ان بات چیت کا مقصد اپنی فوجی کامیابیوں کو سفارتی سطح پر مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
محمد رضا عارف نے کہا کہ امریکا کے طرزِ عمل کی وجہ سے اعتماد کے حوالے سے شکوک و شبہات برقرار رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران میں موجود استحکام اور طاقت شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تعلیمات کا نتیجہ ہے، اور یہ نظریہ طاقت کو کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے قومی امنگوں اور ایک مضبوط نظامِ حکمرانی سے جوڑتا ہے۔
نائب صدر نے مزید کہا کہ گزشتہ 40 دنوں میں ایران نے دشمن کے اندازے غلط ثابت کیے اور قوم کے عزم نے نئے امکانات پیدا کیے۔ ان کے مطابق یہ محض فوجی کامیابی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک موڑ ہے جو علاقائی اور عالمی سطح پر اثر انداز ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دشمن نے یہ سمجھا تھا کہ ایک اہم رہنما کے نقصان سے ایک دور کا خاتمہ ہو جائے گا، مگر قوم کے عزم نے اسے سیاسی اور سکیورٹی محاذوں پر تاریخی ناکامی سے دوچار کیا۔
