اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور علاقائی غیر یقینی صورتحال کے باوجود دو پاکستانی آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز کو بحفاظت عبور کر کے خلیج فارس میں داخل ہو گئے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس اہم پیش رفت کی تصدیق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے باخبر ذرائع نے کی ہے۔
خطے میں جاری حالیہ تناؤ کے باعث بحری راستوں پر شدید خدشات پائے جاتے تھے تاہم پاکستانی پرچم بردار جہاز شالامار اور خیر پور نے تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھا۔ ان جہازوں کو دورانِ سفر کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
ذرائع نے بتایا کہ ان دونوں آئل ٹینکرز کا مقصد خطے کی مختلف بندرگاہوں سے پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں جہاز شالامار کویت کی بندرگاہ منا الزور سے ایندھن لوڈ کرنے کے بعد ابوظبی کی داس بندرگاہ پہنچے گا جہاں سے یہ اپنا تجارتی سفر مکمل کرے گا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کا ایک انتہائی اہم اور حساس راستہ سمجھا جاتا ہے جہاں اکثر بین الاقوامی سیاسی کشیدگی کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستانی جہازوں کا بلا تعطل گزرنا قومی بحری تجارت کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ یہ دونوں جہاز مکمل طور پر پاکستانی ملکیت ہیں اور ملک کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔ ان کی کامیاب نقل و حرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی بحری راستوں پر پاکستانی جہازوں کی آمد و رفت بلا کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔
دریں اثنا علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر آبنائے ہرمز سے گزرنا کسی بھی بحری بیڑے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، تاہم پاکستانی جہازوں کا محفوظ سفر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اپنی تجارتی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی نبھانے کے لیے پرعزم ہے۔
اس پورے آپریشن کے دوران پی این ایس سی کا عملہ اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انتہائی محتاط انداز میں اپنے اہداف کی تکمیل کر رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی یہ تجارتی سرگرمی ملکی معیشت اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
