English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا میں ایرانیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری، مزید 3 گرفتار ، گرین کارڈ منسوخ

القمر

واشنگٹن: امریکا میں وفاقی حکام نے قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ایرانی نژاد مزید 3 افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جن پر الزام ہے کہ ان کے روابط ایرانی حکومت سے جڑے ہوئے ہو سکتے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اس کارروائی کو حالیہ دنوں میں امریکا کی جانب سے سیکیورٹی پالیسی میں سختی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں بیرونی تعلقات رکھنے والے افراد کی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان افراد کی مستقل رہائشی حیثیت ختم کرنے کا حکم جاری کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرین کارڈ کی منسوخی کے بعد فوری طور پر انہیں حراست میں لیا گیا تاکہ مزید قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس فیصلے کو امریکا کی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

گرفتار کیے گئے افراد میں سید عیسیٰ ہاشمی، مریم طہماسبی اور ان کا بیٹا شامل ہیں، جنہیں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان افراد کے خلاف ملک بدری کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں جلد از جلد ملک سے نکالا جا سکے۔

تاہم اب تک ان افراد پر عائد الزامات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں، جس کے باعث اس کیس کے حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ شفافیت کے فقدان سے اس کارروائی پر تنقید بھی سامنے آ سکتی ہے، جبکہ دیگر اسے سیکیورٹی کے تقاضوں کے تحت ضروری قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکا میں ایسے اقدامات نئی بات نہیں، تاہم حالیہ عالمی کشیدگی کے پس منظر میں ان کی شدت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں تناؤ کے باعث ایسے کیسز کو زیادہ حساس سمجھا جا رہا ہے، جہاں کسی بھی ممکنہ خطرے کو پہلے ہی روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں اور ممالک اپنی داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سخت فیصلے کر رہے ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا تاکہ ملک کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے