English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا نے ایران کی معاونت پر چین کی آئل ریفائنری اور کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

القمر

واشنگٹن: امریکا نے ایران کی جانب سے تیل کی برآمدات کو محدود کرنے اور تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے چین کی ایک بڑی آئل ریفائنری سمیت 40 شپنگ کمپنیوں اور درجنوں آئل ٹینکرز پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادروں کے مطابق یہ اقدام ایران کے مالی وسائل سکیڑنے اور تہران کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

امریکی انتظامیہ نے یہ قدم اس پیغام کے ساتھ اٹھایا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والی کسی بھی غیر ملکی کمپنی کو ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکام نے واضح کیا کہ یہ کارروائی ایران کی سب سے بڑی آمدنی کے ذرائع کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز پر امریکا پہلے ہی عملی ناکابندی کر چکا ہے۔

اس کے بعد ان تازہ پابندیوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جس کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ یہ پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں اہم ملاقات متوقع ہے۔ اس ملاقات میں تجارتی اور جغرافیائی سیاسی معاملات پر بات چیت ہونا تھی، جس پر اب ان پابندیوں کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔

امریکی صدر نے حال ہی میں آبنائے ہرمز میں پکڑے جانے والے ایک ایرانی جہاز کا تذکرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس میں چین کی جانب سے بھیجا گیا ایک تحفہ موجود تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس صورتحال پر اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے حیرت کا اظہار کیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے اس سخت فیصلے سے نہ صرف ایران کی معیشت مزید دباؤ میں آئے گی بلکہ چین کے ساتھ تعلقات بھی مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

عالمی مبصرین اب اس معاملے پر دونوں سپر پاورز کے درمیان ہونے والی آئندہ کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے