تہران: خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خشم پورٹ و بندرعباس پر مبینہ حملوں کے بعد ایرانی دارالحکومت میں فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
شہر کے مختلف حساس مقامات پر ڈیفنس سسٹمز کی غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی ہے جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر متحرک ہو چکے ہیں اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اُدھر امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکی فورسز نے ایران کے اہم ساحلی علاقوں میں کارروائیاں کی ہیں جس سے حالات کشیدہ ہیں۔
ایرانی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی حملوں کی زد میں ایک ایرانی آئل ٹینکر بھی آیا ہے۔ تہران نے امریکا پر جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جارحانہ اقدامات سے خطے میں عدم استحکام کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
ایران کی عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ ملکی حدود کی کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی بیرونی خطرے کو فوری طور پر ناکام بنایا جا سکے۔
امریکی حکام نے حالیہ کارروائیوں کو جنگ بندی کے خاتمے سے منسوب کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم تہران اس موقف کو مسترد کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب نے امریکی قرارداد کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد صرف امریکی کارروائیوں کو قانونی جواز فراہم کرنا ہے۔
ایرانی مندوب نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کے الزامات بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ بحران کی اصل وجہ امریکا اور اسرائیل کی غلط پالیسیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں قیام امن کے لیے جنگ، دباؤ اور معاشی پابندیاں ختم کرنا ناگزیر ہے۔
