خلیجِ عمان میں امریکی بحری کارروائی کے دوران شدید نقصان اٹھانے والا ایرانی تجارتی جہاز “توسکا” بالآخر کراچی پہنچ گیا، جہاں اس کی تکنیکی جانچ اور ممکنہ مرمت کے انتظامات پر غور شروع کر دیا گیا ہے، جہاز کو خاص نگرانی میں کراچی لایا گیا، جبکہ اس کے انجن کو ہونے والا نقصان اب بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 19 اپریل کو خلیجِ عمان میں پیش آنے والے واقعے کے دوران امریکی بحریہ کے جنگی جہاز “یو ایس ایس اسپروینس” نے ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔ کارروائی کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد “توسکا” سمندر میں غیر فعال ہو کر رہ گیا تھا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق انجن بند ہونے کے بعد امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اہلکار جہاز پر اترے اور کمرشل بحری جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا گیا۔ بعد ازاں امریکی فورسز نے جہاز کی مکمل تلاشی بھی لی، جس کے دوران عملے سے پوچھ گچھ اور جہاز میں موجود سامان کا جائزہ لیا گیا۔
بندرگاہ حکام کے مطابق واقعے کے بعد جہاز کے عملے کو امریکی حکام نے پاکستان کے حوالے کر دیا تھا۔ عملے کے ارکان بعد میں کراچی سے ایران روانہ ہو گئے، جبکہ جہاز کو تکنیکی نگرانی میں بندرگاہ تک منتقل کیا گیا۔
پورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ “توسکا” کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت کا تفصیلی معائنہ کیا جا رہا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جہاز کی مرمت کراچی شپ یارڈ میں کی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق انجن روم کو پہنچنے والا نقصان خاصا پیچیدہ ہے، جس کی بحالی میں وقت لگ سکتا ہے۔
دوسری جانب اس واقعے نے خطے میں بڑھتی ہوئی بحری کشیدگی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے، جہاں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان تناؤ مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
