فلپائن میں گزشتہ روز آنے والے تباہ کن زلزلے نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 41 ہو گئی ہے جبکہ سیکڑوں افراد زخمی ہونے کے باعث طبی مراکز میں ہنگامی صورتحال برقرار ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق قدرتی آفت کے نتیجے میں 457 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 22 ہزار سے زائد شہری اپنے گھروں سے محروم ہو کر عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں، متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی بحالی اور متاثرین کو امداد کی فراہمی کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات جاری ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلے کے جھٹکوں سے رہائشی ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں 1500 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے جبکہ 350 گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی شعبہ بھی آفت کی زد میں آیا ہے اور 230 سے زائد اسکولوں کی عمارتیں متاثر ہوئی ہیں، جن میں کئی کو سنگین نوعیت کا نقصان پہنچا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 7 لاکھ 22 ہزار آبادی پر مشتمل شہر جنرل سانٹوس اس قدرتی سانحے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں متعدد علاقوں میں تباہی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو خوراک، پانی اور طبی سہولتوں کی فراہمی کے لیے امدادی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
ریسکیو اداروں اور ہنگامی امدادی ٹیموں کی جانب سے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل مسلسل جاری ہے، جبکہ حکام کو خدشہ ہے کہ نقصانات اور متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ زلزلے کی شدت ابتدائی طور پر 7.3 ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں نظرثانی کے بعد اسے 7.8 قرار دیا گیا۔ زلزلے کا مرکز فلپائن کے جنوبی جزیرے منڈاناؤ کے قریب واقع تھا جبکہ اس کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث جھٹکے وسیع علاقے میں شدت کے ساتھ محسوس کیے گئے۔
