کراچی ریلوے اسٹیشن پر تمام سلنڈروں سے گیس نکال لی گئی تھی
شارٹ سرکٹ کے باوجود ٹرین چلتی رہی ٗ بیانات
رحیم یار خان (مانیٹرنگ ڈیسک) رحیم یار خان میں تیزگام ایکسپریس کو پیش آنے والے سانحے نے جہاں ریلوے حکام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگائے وہیں ایک عینی شاہد کے ویڈیو بیان نے نیا تنازع بھی کھڑا کر دیا۔ تیزگام سانحے کے موقع پر موجود ایک عینی شاہد نے ویڈیو بیان میں بتایا کہ یہ جو آگ لگی ہے اور میڈیا پر چل رہا ہے کہ سلنڈر پھٹنے کے باعث لگی ہے ایسی کوئی بات نہیں ہے کوئی سلنڈر نہیں پھٹا۔ انہوں نے کہاکہ ریلوے اسٹیشن پر تمام سلنڈر چیک کروائے گئے تھے اور ان سے گیس نکال دی گئی تھی، آگ اے سی سلیپر کے اندر لگی ہے اور اے سی سلیپر کے اندر سلنڈر لے جانے کی اجازت ہی نہیں ہے۔ عینی شاہد نے بتایا کہ ریلوے کے عملے نے خود بتایا کہ ٹرین کے پنکھے میں تین چار دن سے شارٹ سرکٹ ہو رہا تھا، پنکھے میں آج دوبارہ شارٹ سرکٹ ہوا اور وہ نیچے آگرا جس کی چنگاریوں سے آگ لگ گئی جو تیزی سے بھڑکی لیکن اس کے باوجود ٹرین چلتی رہی۔ عینی شاہد نے مزید بتایا کہ ٹرین میں آگ لگی ہوئی تھی لیکن عملہ موجود نہیں تھا، ٹرین کو روکنے کی ایمرجنسی زنجیر بھی کام نہیں کر رہی تھی اور نہ ہی آگ بجھانے کے لیے کوئی سامان موجود تھا۔ عینی شاہد نے حادثے کی تمام تر ذمہ داری ریلوے حکام پر ڈالتے ہوئے اعلیٰ حکام سے واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ عینی شاہد نے بتایا کہ جو جماعت والے تھے ان کی جانب سے کوئی سلنڈر نہیں جلایا گیا اس کے لیے ہم سب یہاں موجود ہیں تحقیقات کی جاسکتی ہیں جس سے تمام باتیں کلیئر ہو جائیں گی۔ آخر میں عینی شاہد نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بلاوجہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ تبلیغی جماعت والوں کے سلنڈر پھٹنے سے آگ لگی حکومت اس نام نہاد پروپیگنڈے کو ختم کرے اور اصل وجہ سامنے لائے۔

