شہری حکومت نے لائٹ ہائوس میں قانونی دکانیں مسمار کی ہیں، عارضٰ طور پر لگائے گئے اسٹال بھی پولیس نے اکھاڑ دیئے، کاروبار کرنے کہاں جائیں، حکیم شاہ
ایک سال گزرنے کے باوجود متبادل دکانیں نہیں دی گئیں، متاثرہ تاجروں کا احتجاجی دھرنا اور مظاہرہ، ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے
کراچی (اسٹاف رپورٹر) لائٹ ہائوس لنڈا بازار کے سیکڑوں متاثرہ تاجروں کا دھرنا، مسمار کی جانے والی دکانوں کے ایک سال گزرنے کے باوجود متبادل دکانیں نہ ملنے پر تاجر بپھر گئے، میئر کراچی کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم۔ شہری حکومت نے لائٹ ہائوس کی غیر قانونی نہیں قانونی دکانیں مسمار کی ہیں، عارضی طور پر لگائے گئے اسٹال بھی پولیس نے اکھاڑ دیے، تاجروں پر ظلم کی انتہا کردی گئی ہے۔ صدر لائٹ ہائوس مارکیٹ حکیم شاہ کے مطابقفوری طور پر دکانیں فراہم نہ کی گئیں تو میئر کراچی کے آفس کے باہر لائٹ ہائوس کے تمام تاجر اپنا کاروبار بند کرکے دھرنا دیں گے۔ تفصیلات کے مطابق لائٹ ہائوس لنڈا بازار میں ایک سال قبل مسمار کی جانے والی 300 کے قریب دکانداروں کو ایک سال گزرنے کے باوجود متبادل دکانیں فراہم نہ ہونے پر سیکڑوں متاثرہ تاجروں نے شہری حکومت کے خلاف احتجاجی دھرنا شروع کر دیا ہے۔ مظاہرے میں تاجروں کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے جن پر پولیس اور انتظامیہ کی ملی بھگت، غیر قانونی پارکنگ اور ٹھیلا مافیا آزاد، دکاندار فاقہ کشی پر مجبور، ارباب اختیار نے وعدے کے باوجود متبادل جگہ فراہم نہیں کی اور دیگر نعرے درج تھے۔ اس موقع پر لائٹ ہائوس مارکیٹ کے صدر اور آل سٹی تاجر اتحاد کے چیئرمین حکیم شاہ نے کہاکہ لائٹ ہائوس کے متاثرہ تاجروں کا احتجاجی دھرنا جاری رہے گا اور 72 گھنٹے میں تاجروں کو دکانیں فراہم نہ کیں تو لائٹ ہائوس کے تمام تاجر ایم اے جناح روڈ پر موجود میئر کراچی کے آفس کے باہر غیر معینہ مدت کے لیے احتجاجی دھرنا دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ 60 برسوں سے کاروبار کرنے والے دکانداروں کو سپریم کورٹ کی آڑ میں جائز و قانونی املاک سے محروم کر دیا گیا جس سے ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا اور لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ تجاوزات کے خلاف ہونے والے آپریشن کی آڑ میں لائٹ ہائوس لنڈا بازار کی 300 قانونی دکانیں بغر کسی پیشگی نوٹس کے مسمار کر دی گئیں۔ مذکورہ مارکیٹ 1952ء میں سرار عبدالرب نشتر نے قیام پاکستان کے محض پانچ سال بعد تعمیر کرائی تھی اور یہاں کے دکاندار 66 سال سے کے ایم سی کو باقاعدگی سے کرایہ ادا کرتے تھے اور دکانداروں کے پاس 1952ء سے جمع کروائے گئے کرایوں کی رسیدیں بطور ثبوت موجود ہیں۔

