
اسلام آباد(نمائندہ جسارت،خبر ایجنسیاں) وفاقی کابینہ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دینے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے اور انہیں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط منظوری دے دی ہے۔نوازشریف کو ملک سے باہر جانے کے لیے سیکورٹی بانڈ جمع کرانا ہوگا۔ سیکورٹی بانڈز جمع ہونے پر ذیلی کمیٹی نوازشریف کانام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش کرے گی۔ وفاقی کابینہ کی مشروط منظوری کے بعد ذیلی کمیٹی کی سفارش کومزید منظوری کی ضرورت نہیں۔ذرائع کے مطابق چند اراکین نے کہا کہ نوازشریف کیش کی صورت میں سیکورٹی جمع کروائیں۔ ایک وزیر نے کہا کہ 800 ملین امریکی ڈالر اور لندن کے فلیٹس کی زرضمانت دی جائے۔ذرائع کے مطابق نوازشریف کے علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی معاون خصوصی سمندر پار پاکستانیززلفی بخاری اور وفاقی وزیرآبی وسائل فیصل واوڈا نے مخالفت کی۔ ان کے علاوہ شیری مزاری، علی امین گنڈا پور اور علی زیدی کے نام بھی سامنے آئے ہیں جب کہ ان کے علاوہ کابینہ کے کسی رکن نے نوازشریف کے باہر جانے کی مخالفت نہیں کی۔ ندیم افضل چن نے علاج کے لیے نوازشریف کے باہر جانے کی حمایت کی۔ مخالفت کرنے والے اراکین نے موقف تھا کہ سزا یافتہ شخص کا ایسے باہر جانا تحریک انصاف کے نظریے کے خلاف ہے،ماضی میں بھی یہ لوگ حکومتیں کرکے باہر جاتے رہے ہیں۔مذکورہ اراکین نے کہا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کو اجازت دینے سے تحریک انصاف اور باقی حکومتوں میں کیا فرق رہے گا؟ عوام میں منفی تاثر جائے گا کہ حکومت نے کسی دبائو میں نام ای سی ایل سے نکالا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ فیصلہ کررہے ہیں،نوازشریف کو ان کی مرضی کا علاج کرانے دینا چاہیے، یہ بات یقینی بنائیں گے نوازشریف علاج کے بعد واپس آئیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ذیلی کمیٹی نواز شریف کی فیملی سے مکمل ضمانت لے گی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آزادی مارچ سے متعلق بھی گفتگوکی گئی ۔ وزیراعظم نے وزرا کو آزادی مارچ سے متعلق بیان بازی سے روک دیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کو نظرانداز کیا جائے۔ حکومت کو مولانا فضل الرحمان کے دھرنے سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔کابینہ اجلاس سے قبل وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی سربراہی میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس ہوا۔ جس میں معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر، نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹرعدنان اور نمائندہ شہباز شریف عطا تارڑ نے شرکت کی۔ ذیلی کمیٹی کو سیکرٹری صحت اور سربراہ میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی صحت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ پنجاب حکومت کا مؤقف تھا کہ نواز شریف کی حالت تشویش ناک ہے، انہیں فوری علاج کی ضرورت ہے جب کہ نیب نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کردی۔ذرائع کے مطابق کمیٹی نے نواز شریف کے وکلاء سے ان کی واپسی کی تاریخ مانگ لی۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے کہا ہے کہ نوازشریف کی وطن واپسی کی ضمانت کے طور پر کچھ اثاثے بھی رکھیں۔اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کامعاملہ پیچیدہ ہے، فریقین مکمل دستاویزات نہیں لائے جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی، نیب حکام کو بہت سی دستاویزات ساتھ لانے کو کہا تھا، اس کے علاوہ درخواست گزار اور ان کے وکلا کو بھی دستاویزات لانے کا کہا ہے، کابینہ کی ذیلی کمیٹی میرٹ پر فیصلہ کرے گی۔کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق نے کہاکہ کابینہ نے نواز شریف کی صحت کے بارے میں رپورٹس سے آگاہی لی اس معاملے میں نیب اور میڈیکل بورڈ اصل شراکت دار ہیں اور سفارشات سے آگاہ کیا گیا۔ شہباز شریف نے باہر علاج کیلیے درخواست دی ہے۔ باہر بجھوانے کیلیے بھاری ضمانت درکار ہے ۔ مریم نواز شریف اور شہبازشریف سے بھاری مالیاتی ضمانت لی جائے گی۔ میڈیکل بورڈ 14 ارکان پر مشتمل تھا۔ وزیر قانون نے اپنی رائے بھی دی۔ سب کا اتفاق تھا کہ نواز شریف کو مشروط طورپر باہر جانے کی اجازت دی جائے۔ انفرادی طورپر سب سے رائے لی گئی۔ 85-90 فیصد وزراء نے باہر جانے کی اجازت دینے کی رائے دی ۔ وزیراعظم بھی اکثریت کی رائے سے متفق تھے۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کو صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بیرون ملک بھیجا جارہا ہے۔ وہ قانونی تقاضے پورے کر کے باہر جائیں حکومت کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔وزیراعظم کی زیر صدارت پارٹی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس کے دوران نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل)سے نکالنے کے معاملہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی ڈیل کا تاثر درست نہیں ہے اور احتساب کا عمل جاری رہے گا۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ترجمانوں کو نواز شریف کے علاج سے متعلق حکومتی موقف کا سیاسی تاثر زائل کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے قانونی پہلو وزیر قانون فروغ نسیم دیکھ رہے ہیں اور حکومت اس سلسلے میں واضح موقف دے چکی ہے۔علاوہ ازیںسابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے معاملے پر وزیر قانون فروغ نسیم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اس حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے جو آج بدھ کی صبح 10 بجے سنایا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر اور میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر ایاز اجلاس میں شریک ہوئے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے عطاء تارڑ ، نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے حکام ذیلی کمیٹی اجلاس میں شریک ہوئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں شریک ن لیگ کے نمائندے عطاء تارڑ نے نوازشریف کی طرف سے ضمانتی بانڈ دینے سے انکار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سیکورٹی بانڈز عدالت میں جمع کراچکے ہیں مزید سیکورٹی بانڈز نہیں دیں گے۔، کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا فیصلہ آج بدھ کی صبح 10 بجے سنایا جائے گا۔عطاء تارڑ نے کہا کہ ذیلی کمیٹی سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک ہے۔ اسلام آباد اور لاہور ہائیکورٹ کے ضمانتی احکامات پر ’شیورٹی‘ جمع کرا چکے ہیں۔ علاج کی بات عدالت میں ہو چکی مزید کہیں شیورٹیز جمع کرانے کی ضرورت نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے نیب کو آج صبح 10 بجے تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے جبکہ ن لیگ کے نمائندے بھی اپنے مؤقف میں کسی تبدیلی کے بارے میںآج آگاہ کر سکتے ہیں۔اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ ذیلی کمیٹی نے شریف خاندان کے نمائندوں سے نواز شریف کی واپسی کی تاریخ مانگی ہے۔ ان سے پوچھا ہے کہ مقدمات کی واجب الادا رقم میں سے کتنی بطور گارنٹی دے سکتے ہیں؟۔شہزاد اکبر نے کہا کہ واپسی کی تاریخ اور ضمانتی بانڈز مانگنا کوئی نئی بات نہیں۔ عدالت بھی ضمانتی بانڈز جمع کرتی ہے۔ کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے بھی ای سی ایل سے نام نکالا جا سکتا ہے۔دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے حکومتی مشروط فیصلے کے بعد بیرون ملک علاج کے لیے جانے سے انکار کردیا۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے سربراہ شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی نواز شریف سے اپنی خاندانی رہائش گاہ جاتی امراء میں ڈیڑھ گھنٹے طویل ملاقات کی۔شریف خاندان کی جانب سے نوازشریف کو علاج کے لیے بیرون ملک لے جانے کے اصرار کے باجود سابق وزیراعظم نے ملک سے باہر جانے سے انکا رکردیا ہے۔شریف فیملی نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے اصرار کررہی ہے۔ شہباز شریف اور مریم نواز نے نواز شریف کو منانے کی بھرپور کوشش کی لیکن نواز شریف اپنے موقف پر قائم ہیں۔نواز شریف کا کہنا ہے کہ عدالت نے مجھے 8 ہفتے کی ضمانت دی ہے اور اس کے مچلکے عدالت میں جمع ہیں اب مزید کسی زر ضمانت کی ضرورت نہیں، ای سی ایل میں نام ڈالتے وقت حکومت نے اتنا تردد نہیں کیا جب کہ نام نکالتے وقت اتنا جھنجھٹ اور حیلے بہانے کیوں؟ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف اور شہباز شریف کی لندن روانگی ابھی تک کنفرم نہ ہو سکی ہے جب کہ ائیرایمبولینس کوبھی پاکستان پہنچنے کی تاحال ہدایت نہیں دی گئی۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو بیرون ملک لیجانے کے لیے ائیر ایمبولینس کا انتظام کرلیاگیا ہے۔ ائیر ایمبولینس آج بدھ کو پہنچے گی۔
وفاقی کابینہ اجلاس
