English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

لبنان میں بنک ملازمین کی ہڑتال سے بنکنگ سسٹم مفلوج

لبنان میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے دوران 11 ہزار بنک ملازمین کی ہڑتال سے  بنکنگ سسٹم مفلوج ہوگیا۔

لبنان کی گیارہ ہزار  ملازمین کی نمائندگی کرنے والی بنک یونین نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر پیر کو ہڑتال کی کال دی تھی ، بینکوں اور صارفین کے ذخائر واپس لینے کے مطالبات کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ لبنان میں بینک ایسوسی ایشن کے صدر سےٹریڈ یونین کے ایک وفد نے ملاقات کی جس کے بعد دونوں فریقوں نے اعلان کیا کہ صارفین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اے ٹی ایم کے ذریعے مسلسل رقوم فراہم کی جاتی رہیں گی۔

دوسری طرف تاجر تنظیموں کی یونین نے کہا ہے کہ ملازمین کے مطالبات پورے ہونے تک کام پر واپسی نہیں ہوگی۔ حکومت کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ ملازمین کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے تمام بنکوں کی سکیورٹی یقینی بنائے اور دیگر مطالبات کے لیے غیرمعمولی اقدامات کیے جائیں۔ لبنان میں  بینکوں نے ڈالر کی واپسی اور بیرون ملک منتقلی پر پابندیاں عائد کردی ہے۔

لبنانی بینک ملازمین یونین کے سربراہ نے کہا ہے کہ لبنانی دارالحکومت بیروت اور دیگر علاقوں میں منگل کے روز ہڑتال کی وجہ سے بینک بند ہوگئے تھے۔یونین کے صدر جارج الحاج نے کہا کہ ‘اے ٹی ایم’ کے ذریعے صارفین کو نقدی فراہم کی جاتی رہے گی۔ لبنان میں مقامی سطح پر منی چینجر حضرات کے پاس ڈالرکا لین دین زیادہ دکھا جارہا ہے جس کےنتیجے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

واضح رہے کہ لبنان میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران بنکوں کے باہر ہونے والے مظاہروں اور رقوم نکالے والے صارفین کی بہت زیادہ تعداد کے پیش نظر بنک ملازمین نے ہڑتال کی کال دی تھی۔ بنک ایسوسی ایشن کا بڑا مطالبہ ہے کہ تمام بنکوں اور ان کے ملازمین کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی  جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے