English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ڈوپ ٹیسٹ کے بغیر کھلاڑیوں کی قومی کھیلوں میں شرکت

القمر

پشاور (سید وزیر علی قادری) انٹرنیشنل اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او سی) کے قوانین کے مطابق کسی بھی بڑے ایونٹ یا ملکی اہم ایونٹس میں شریک ہونے والے کھلاڑیوں کا ڈوپ ٹیسٹ ہونا ضروری ہے، جسے اس سلسلے میں بنا ہوا یونٹ واڈا دیکھتی ہے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن ( پی او اے ) نے عالمی کھیلوں کی تنظیم کے قوانین کی ایک مرتبہ پھر دھجیاں بکھیر دیں اور 33ویں قومی کھیلوں کے آغاز سے قبل کھلاڑیوں کا ڈوپ ٹیسٹ لیا ہی نہیں گیا جو کم از کم 6ماہ پہلے لیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو خوف تھا کہ اگر ڈوپ ٹیسٹ لیے گئے تو بڑی تعداد میں کھلاڑی اس میگا ایونٹ میں شرکت سے رہ جائیں گے۔ لہذا اس پریکٹس کو دوبارہ نہیں دہرایا گیا ۔ 2010میں بھی منعقدہ قومی کھیلوں کے انعقاد کے موقع پر بھی ان اصولوں کو نہیں اپنایا گیا تھا۔ اس موقع پر کئی فیڈریشنز کے عہدیداروں نے ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں زیادہ تر کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے۔ دریں اثنا ایک ذمہ دار فرد نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعوی کیا کہ اگر ڈوپ ٹیسٹ لیے جاتے تو60سے 70فیصد ایتھلیٹس کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آتا جس سے ایک تو قومی کھیلوں کا انعقاد مشکل تھا دوسرے ملک کی بدنامی بھی ہوتی اور آئندہ بین الاقوامی مقابلوں میں شریک ہونے والے کھلاڑیوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا۔
سڈنی: پاکستانی کھلاڑی وہیڈکوچ مصباح الحق کابولنگ کوچ وقار یونس کو براڈمین ہال آف فیم ایوارڈ ملنے کی خوشی میں کیک کاٹنے سے قبل گروپ فوٹو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے